Updated: September 18, 2026, 10:06 PM IST
| Tel Aviv
نشستوں کے تخمینے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سروے کے نتائج میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۱۲۰ نشستوں پر مشتمل کنیسٹ میں نیتن یاہو کا حکمران اتحاد ۵۰ نشستیں حاصل کرے گا جبکہ اپوزیشن بلاک کو ۵۴ نشستیں ملیں گی، جن کے علاوہ عرب جماعتیں ۱۲ اور ریزروسٹس-اکنامک پارٹی چار نشستیں حاصل کریں گی۔ آئزن کوٹ کی یشار پارٹی ۲۳ نشستوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے حصے میں ۱۸ نشستیں آئیں۔
اسرائیلی روزنامے معاریف کی جانب سے جمعہ کو شائع ہونے والے ایک حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق، یشار پارٹی کے لیڈر گیڈی آئزن کوٹ وزیرِ اعظم کے عہدے کیلئے براہِ راست ترجیحی مقابلے میں موجودہ وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ۴۰ فیصد کے مقابلے میں ۴۸ فیصد کے ساتھ آگے چل رہے ہیں۔ سروے میں سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کو بھی نیتن یاہو کے مقابلے میں ۴۱ فیصد کے مقابلے ۴۴ فیصد کے ساتھ برتری حاصل ہے، جبکہ نیتن یاہو ایوگڈور لیبرمین کے ۳۸ فیصد کے مقابلے ۴۲ فیصد کے ساتھ آگے رہے۔ یہ سروے لزار ریسرچ اور پینل ۴ آل (Panel4All) نے ۱۶ اور ۱۷ ستمبر کو ۴۰۸۹ جواب دہندگان کے درمیان کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: انقرہ: طلبہ کا غزہ کے بچوں سے اظہارِ یکجہتی، آسمان رنگین پتنگوں سے بھر گیا
نشستوں کے تخمینے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سروے کے نتائج میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۱۲۰ نشستوں پر مشتمل کنیسٹ میں نیتن یاہو کا حکمران اتحاد ۵۰ نشستیں حاصل کرے گا جبکہ اپوزیشن بلاک کو ۵۴ نشستیں ملیں گی، جن کے علاوہ عرب جماعتیں ۱۲ اور ریزروسٹس-اکنامک پارٹی چار نشستیں حاصل کریں گی۔ آئزن کوٹ کی یشار پارٹی ۲۳ نشستوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے حصے میں ۱۸ نشستیں آئیں۔ بینیٹ کی ٹوگیدر پارٹی ۱۳ نشستوں کے ساتھ اس کے بعد رہی، جبکہ یائر گولن کی ڈیموکریٹس اور لیبرمین کی یسرائيل بیتینو کو نو نو نشستیں ملیں۔
بین گویر کی جیوش پاور پارٹی کے ۸ نشستیں جیتنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جبکہ یونائیٹڈ تورات یہودیت اور شاس کو سات سات سیٹیں اور اسموٹریچ کی ریلیجس زایونزم پارٹی کو چھ نشستیں ملیں۔ ریزروسٹس-اکنامک پارٹی اور عوفر ونٹر کی یور پیپل اسرائیل پارٹی نے چار چار نشستیں حاصل کیں، جبکہ عرب جماعتوں کی ۱۲ نشستیں مشترکہ عرب فہرست (سات) اور منصور عباس کی متحدہ عرب فہرست (پانچ) کے درمیان تقسیم ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے انتخابی مہم شروع کی، ایران، غزہ، لبنان پر جارحیت کا فخریہ تذکرہ
یہ سروے اسرائیل کے ۲۷ اکتوبر کو شیڈول عام انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو، جو دسمبر ۲۰۲۲ء سے موجودہ حکومت کی قیادت کر رہے ہیں، اس وقت اندرونِ ملک بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غزہ کی پٹی سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔