جسٹس رائے نے نوٹ کیا کہ چودھری کی پوسٹ، بی این ایس کے سیکشن ۱۵۲ کے تحت نہایت سنگین الزام کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔
EPAPER
Updated: October 04, 2025, 10:04 PM IST | Lucknow
جسٹس رائے نے نوٹ کیا کہ چودھری کی پوسٹ، بی این ایس کے سیکشن ۱۵۲ کے تحت نہایت سنگین الزام کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے میرٹھ کے رہائشی ساجد چودھری کو ضمانت دے دی ہے جسے مبینہ طور پر پاکستان کی تعریف کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس سنتوش رائے نے نوٹ کیا کہ اگرچہ ایسی پوسٹ کی وجہ سے زبردست غصہ یا بد امنی پیدا ہوسکتی ہے، لیکن یہ پوسٹ، بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کے سیکشن ۱۵۲ کے تحت نہایت سنگین الزام کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔
واضح رہے کہ چودھری پر سیکشن ۱۵۲ (ہندوستان کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنا) کے تحت مقدمہ درج کرکے ۱۳ مئی ۲۰۲۵ء کو اسے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس کی متنازع سوشل میڈیا پوسٹ میں مبینہ طور پر لکھا تھا: ”کامران بھٹی آپ پر فخر ہے، پاکستان زندہ باد۔“
یہ بھی پڑھئے: بریلی اور اطراف میں پولیس کی دہشت، جمعہ پُرامن گزرا
جسٹس رائے نے نوٹ کیا کہ یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ بی این ایس کے سیکشن ۱۹۶ کے تحت آ سکتی ہے، جو گروپس کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔ عدالت نے کہا کہ ”ایسا پیغام پوسٹ کرنے سے غصہ تو پیدا ہو سکتا ہے لیکن اسے قوم کی خودمختاری کے خلاف کام نہیں سمجھا جا سکتا۔“
چودھری کے وکیل نے دلیل دی کہ اسے جھوٹے طور پر پھنسایا گیا تھا اور اس نے صرف بغیر کسی غلط ارادے کے پوسٹ کو آگے بھیجا تھا۔ عدالت کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو ظاہر کرتا ہو کہ چودھری نے ہندوستان کی سالمیت کے خلاف کوئی بیان دیا تھا۔ ۲۵ ستمبر کو دیئے گئے اپنے حکم میں ہائی کورٹ نے نشان دہی کی کہ سیکشن ۱۵۲، نئی قانونی دفعہ ہے جس کا سابقہ انڈین پینل کوڈ میں کوئی متبادل نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہی، بنچ نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسے ”مناسب دیکھ بھال اور تحمل“ کے ساتھ لاگو کریں۔