Inquilab Logo Happiest Places to Work

کامل اور فاضل اسناد کیخلاف سرکاری فیصلے پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی عبوری روک

Updated: August 06, 2026, 12:29 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

آباد ہائی کورٹ نے کامل اور فاضل ڈگری یافتہ اساتذہ کی تقرریوں کے قانونی جواز سے متعلق ایک اہم معاملے میں بڑا عبوری حکم جاری کیا ہے۔

File photo.
فائل فوٹو۔

آباد ہائی کورٹ نے کامل  اور  فاضل ڈگری یافتہ اساتذہ کی تقرریوں کے قانونی جواز سے متعلق ایک اہم معاملے میں بڑا عبوری حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ، یوپی محکمہ اقلیتی بہبودکی پرنسپل سیکریٹری اور ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات پر آئندہ حکم تک عبوری روک لگا دی ہے۔اسی کے ساتھ شکایت کنندہ طلحہ انصاری کو بھی اس معاملے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے اور ۶؍ہفتوں میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عوام کا کام کیجئے ورنہ میں عہدے سے برطرف کر دوں گا: شندے کا وزراء کو انتباہ

اس اہم مقدمے کی سماعت جسٹس سَرَل شریواستو اور جسٹس سدھانشو چوہان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی اورمذکورہ روک کا حکم ’ٹیچرس اسوسی ایشن مدارسِ عربیہ اتر پردیش ‘کے جنرل سکریٹری دیوان صاحب زماں خاں اور انتظامیہ کمیٹی مدرسہ مدینۃ العلوم بنارس کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن پر جاری کیا گیا۔ درخواست میں این ایچ آر سی کے ان اقدامات کو چیلنج کیا گیا تھا، جن کے تحت فاضل اور کامل ڈگری یافتہ اساتذہ کی تقرریوں اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے میں حکومتِ اتر پردیش سے وضاحت طلب کی گئی تھی اور محکمہ اقلیتی بہبود کے پرنسپل سکریٹری کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ گووند کمار سنگھ، سینئر ایڈوکیٹ وجے کمار سنگھ، ایڈوکیٹ پرشانت شکلا، ایڈوکیٹ ایچ  پی شاہی، ایڈوکیٹ سنکلپ نارائن اور ایڈوکیٹ محمد علی اوصاف نے عدالت میں موقف پیش کیا جبکہ یوپی مدرسہ بورڈ کی جانب سےستیم سنگھ ایڈوکیٹ اور یوپی حکومت کی طرف سے چیف اسٹینڈنگ کونسل پیش ہوئے۔درخواست گزاروںکے وکلاء نے استدلال کیا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر’سروس میٹر‘ سے متعلق ہے، جس میں مداخلت نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جن کامل و فاضل ڈگری یافتہ اساتذہ کی تقرریوں اور تنخواہوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ان کی تقرریاں سپریم کورٹ کے متعلقہ فیصلوں سے بھی قبل عمل میں آچکی تھیں، اسلئے ان تقرریوں کو موجودہ بنیادوں پر چیلنج کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہنگولی: گئو ہتیا کے الزام پر نائب صدر بلدیہ عمران علی کو استعفیٰ دینا پڑا

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ شکایت کنندہ طلحہ انصاری کا مدارس یا متعلقہ تقرریوں  سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس معاملے میں متاثرہ فریق کی قانونی تعریف میں شامل ہوتے ہیں۔ اس بنیاد پر وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ این ایچ آر سی میں ان کی جانب سے دائر شکایت قانون کے مطابق قابلِ سماعت نہیں ہے۔جسٹس سَرَل شریواستو اور جسٹس سدھانشو چوہان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ان احکامات پرعبوری روک لگا دی، جن کے ذریعے کامل و فاضل ڈگری یافتہ اساتذہ کی تقرریوں کے قانونی جواز کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔عدالت کے اس عبوری فیصلے کو کامل و فاضل ڈگری یافتہ مدرسہ اساتذہ کیلئے بڑی قانونی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ یہ اساتذہ گزشتہ کئی برسوں سے مدارس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK