Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنگولی: گئو ہتیا کے الزام پر نائب صدر بلدیہ عمران علی کو استعفیٰ دینا پڑا

Updated: August 06, 2026, 12:01 PM IST | Z. A. Khan | Hingoli

عمران علی کے کھیت سے ۱۹؍ مویشی برآمد ہوئے تھے جسکے بعد ہندوتواوادی تنظیموں نے ان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

Imran Ali. Photo: INN
عمران علی۔ تصویر: آئی این این

ہنگولی ضلع کےبسمت تعلقہ میں واقع جاؤلہ کھنداربن شِوار سے خبر آئی تھی کہ بسمت کے نائب صدر بلدیہ عمران علی کے کھیت سے ۱۹؍ مویشی برآمد ہوئے ہیں جو گئوونش سے تعلق رکھتے ہیں۔اس پر بسمت (دیہی) پولیس تھانے میںعمران علی کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جسے بدھ کے روز منظور کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: رکن پارلیمنٹ پپو یادونے تیجسوی یادوکی قائدانہ صلاحیت پر سوال اٹھایا

ذرائع کے مطابق اسکی اطلاع مزید کارروائی کیلئے ضلع انتظامیہ کو بھی بھیج دی گئی ہے۔ تاہم استعفیٰ نامے میں انہوں نے صحت اور ذاتی وجوہات کی بنا پر عہدہ چھوڑنے کی بات لکھی ہے۔ واضح رہے کہ بسمت تعلقہ کے جاؤلہ کھنداربن شِوار میں ایک کھیت پرپولیس نے چھاپہ مار کر  ۱۹؍ مویشی برآمد کئے تھے جو ممنوعہ( گئوونش) تھے۔پولیس کو  ہندوتوا وادی تنظیموں نے اطلاع دی تھی کہ مویشیوں کو  ذبح کرنے کے مقصد سے رکھا گیا تھا۔  اسی بنیاد پر ۳۰؍ جولائی کو نائب صدر بلدیہ عمران علی کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔ اس معاملے کی مزید تفتیش اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر رام داس نردوڑے اور جمعدار وجئے کمار اُپرے کر رہے ہیں۔پولیس کی پوچھ تاچھ میں عمران علی نے بتایا کہ وہ کھیت جہاں سے مویشی ملے ہیں انہوں نے شیخ  ذاکر کو کرایہ پر دیا تھا۔ اس بیان کی بنیاد پر پولیس نے شیخ ذاکر کے خلاف بھی  معاملہ درج کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران علی کے خلاف ہندوتواوادی تنظیموں نے مورچہ بھی نکالا تھا اور ان کے  استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا جس کے باعث بسمت شہر میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: یونانی اور آیوروید ڈاکٹروں کو ’جعلی یا نیم حکیم‘ کہنا مہنگا پڑ سکتا ہے

بعد ازاں عمران علی نے اپنا استعفیٰ  صدربلدیہ کی سنیتا باہیتی کے حوالے کیا، جسے منظور کرتے ہوئے مزید کارروائی کیلئے ضلع انتظامیہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ صحت اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے وہ عہدے کو مناسب وقت نہیں دے پا رہے ہیں، اسلئے مستعفی ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK