الائنس اگینسٹ سی اے اے کی دہلی کے پُرتشدد واقعات کی سخت مذمت

Updated: February 26, 2020, 12:57 PM IST | Agency | Hyderabad

الائنس کے کنوینرر یٹائرڈ جسٹس چندراکمار کا این پی آر پر فوری روک لگانے کا مطالبہ

جسٹس چندرا کمار ۔ تصویر : فیس بک
جسٹس چندرا کمار ۔ تصویر : فیس بک

   حیدرآباد : ’مرکزی حکومت کا شہریت ترمیمی قانون ہندوستانی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ حکومت، آسام میں غیر قانونی طور  پر داخل ہونے والوں کی شناخت کے نام پر ملک بھر میں این آر سی نافذ کرے کا منصوبہ بنارہی ہے اور اس عمل کو شروع کرنے کے لئے یکم اپریل تا ۳۰؍  ستمبر ملک بھر میں این پی آر کیا جائے گا جس کی تیاریاں مرکزی و ریاستی حکومتیں کرچکی ہیں جبکہ این پی آر میں شامل بعض سوالات قابل اعتراض ہیں اور عوام میں اس تعلق سے شدید بے چینی و تشویش پائی جاتی ہے۔ مردم شماری یا این پی آر کے نام پر شہریوں سے جو سوالات پوچھے جانے والے ہیں، یہ شہریوں کے حقوق پر ایک طرح کا حملہ ہے۔ اس قانون و طریقہ کار سے مختلف مذاہب کے لوگوں بالخصوص خواتین، کمزور طبقات، دلت، آدیواسی اور خانہ بدوش قبائل شدید متاثر ہوں گے۔ اس قانون کے نام پر لاکھوں شہریوں کو مشکوک شہریوں کے نام پر گرفتار کئے جانے کا خطرہ ہے۔‘ ان خیالات کا اظہار کنوینر الائنس اگینسٹ سی اے اے،  این آر سی اینڈ این پی آر، تلنگانہ ریٹائرڈجسٹس چندرا کمار نے حیدرآباد کے میڈیا پلس میں کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ الائنس کے کو-کنوینرایم وملا  نے کہا کہ دہلی میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں  اور مطالبہ کرتے ہیں کہ خاطیوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے۔ محمد صادق احمد (کو- کنوینر) نے کہا کہ الائنس کسی بھی طریقہ سے این پی آر کو رکوانے کے لئے کوشاں ہے جو یکم اپریل سے شروع ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تلنگانہ زبانی جمع خرچ کے بجائے آنے والے اسمبلی سیشن میں سی اے اے کے ساتھ ساتھ این پی آر اور این آر سی پر بھی قرارداد منظور کرے اور ریاست میں اس پر روک لگائے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ملک بھر میں جاری پرامن احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے، الائنس اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔
  الائنس کی جانب سے۸؍مارچ ’یوم خواتین‘ کو سی اے اے، این آر سی، این پی آرمخالف دن کے طورپر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ الائنس کی جانب سے  پرامن مظاہرین پر پولیس کے ظلم کی بھی شدید مذمت کی گئی اور بے قصورمظاہرین پر لگائے گئے الزامات اور مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
  اس موقع پر کنوینر الائنز حیدرآباد چیاپٹر سارہ میتھیوز، سماجی خدمتگار خالدہ پروین، پروفیسر عبدالمجید، محمد عبدالعظیم ، ایڈوکیٹ ولی الرحمٰن  اور دیگرمعزز افراد موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK