Updated: February 02, 2026, 9:12 PM IST
| Dubai
پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ کی دھمکی کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا اب تک کوئی باضابطہ اجلاس منعقد ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے منتخب شرکت کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سخت بیان جاری کیے جانے کے بعد گیند مکمل طور پر پاکستان کے کورٹ میں ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم۔ تصویر:آئی این این
ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ۱۵؍ فروری کو ہونے والے ہند۔پاک مقابلے پر منڈلاتے بائیکاٹ کے بادل تاحال چھٹ نہ سکے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ کی دھمکی کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا اب تک کوئی باضابطہ اجلاس منعقد ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے منتخب شرکت کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سخت بیان جاری کیے جانے کے بعد گیند مکمل طور پر پاکستان کے کورٹ میں ہے۔ تاہم، اس ویب سائٹ کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے پر کسی اجلاس کے انعقاد سے متعلق تاحال کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
کرک بز کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی کی خاموشی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ابھی تک عالمی ادارے کو میچ سے دستبرداری کے حوالے سے کوئی سرکاری خط موصول نہیں کرایا۔ پاکستان حکومت کی جانب سے ایکس (ٹویٹر) پر کیا گیا اعلان ایک سیاسی موقف تو ہو سکتا ہے، لیکن آئی سی سی کے ضوابط کے تحت جب تک پی سی بی تحریری طور پر آگاہ نہیں کرتا، اسے آفیشل نہیں مانا جا سکتا۔کرکٹ حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان آخر کار اس میچ میں شرکت پر آمادہ ہو جائے گا۔ اس کی مثال گزشتہ ایشیا کپ سے دی جا رہی ہے جب پی سی بی نے ایک میچ میں شرکت کا فیصلہ مقابلہ شروع ہونے سے محض نصف گھنٹہ پہلے کیا تھا۔اگر پی سی بی بائیکاٹ پر بضد رہتا ہے، تو آئی سی سی کے پاس سخت آپشنز موجود ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان حکومت کی جانب سے ہندوستان کے خلاف ٹی ۲۰؍عالمی کپ میچ کے بائیکاٹ اور منتخب شرکت کے اعلان کے بعد آئی سی سی نے اتوار کی رات جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ اسے امید ہے پی سی بی تمام متعلقہ فریقین کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے باہمی رضامندی سے کوئی حل تلاش کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:پہلی فلم کے بعد چار سال تک دوسری فلم سائن کرنے پر پابندی تھی: اہان شیٹی
اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آئی سی سی اس معاملے پر اجلاس طلب کر سکتا ہے۔ اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں ہندوستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جن میں ریونیو پر روک سمیت دیگر سخت اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو واک اوور دینے پر ۲؍ پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا، جو براہِ راست ہندوستان کے کھاتے میں جائیں گے۔ پاکستان کے آئی سی سی ریونیو (آمدنی) پر روک لگائی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شکست کے باوجود جوکووچ نے میلبورن کے شائقین کے دل جیت لیے
آئی سی سی کے بیان میں کہا گیا
آئی سی سی نے کہاکہ ’’آئی سی سی پاکستان حکومت کے اس بیان کو نوٹس میں لے رہا ہے، جس میں ۲۰۲۶ء آئی سی سی مردوں کے ٹی۲۰؍عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کو منتخب میچوں میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ آئی سی سی تاحال اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے باضابطہ رابطے کی منتظر ہے۔ تاہم منتخب شرکت کی یہ صورتحال کسی عالمی کھیلوں کے ایونٹ کی بنیادی روح سے مطابقت نہیں رکھتی، جہاں تمام کوالیفائی کرنے والی ٹیموں سے طے شدہ شیڈول کے مطابق یکساں شرائط پر مقابلہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔تاہم، اس ویب سائٹ کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے پر کسی اجلاس کے انعقاد سے متعلق تاحال کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔