• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام: کایا کلاس

Updated: February 02, 2026, 10:02 PM IST | Belgium

یورپی یونین خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے کہا ہے کہ ہمیں یورپی یونین کا دفاعی نظام مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں نئے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کی بات دہرائی ہے، مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یورپی یونین خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے پیر کو کہا کہ اقوام متحدہ ایسا نہیں کر رہا ہے جیسا اسے کرنا چاہئے اور اس بات کو دہرایا کہ ان ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قوانین نافذ کرنے کی ضرورت ہے،جو قانون کی بالا دستی کے خواہاں ہیں۔ اوسلو سکوریٹی کانفرنس میں کایا کلاس نے کہا کہ ’’جیسا کہ ہم سن چکے ہیں، اقوام متحدہ اس طرح کام نہیں کر رہا جیسا اسے کرنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ بہت سے ممالک ہیں جو ایک بہتر قانون کا نفاذ چاہتے ہیں، جو ان کی حفاظت کر سکے۔ کلاس نے کہا کہ ’’ہم ایسی حالت میں ہیں، جہاں ہمیں ان ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے، جو ایک بہتر قانون کی بالادستی کے خواہاں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا منشور بہت اچھا ہے لیکن جب جواب دہی کی بات آتی ہے تو یہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: ٹرمپ کا اسرائیل سے سمجھوتہ کرنے کا انکشاف؛ ایپسٹین کو غلاف کعبہ کے ٹکڑے بھیجے گئے

کسی پر منحصر ہونا آپ کو کمزور بناتا ہے
کلاس نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ یورپ کو اپنا دفاعی نظام خود بنانا چاہئے، کیوں کہ کسی پر انحصار آپ کی بنیاد کو کمزور بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ہم نے بڑی مشکل سے یہ سیکھا ہے کہ کسی پر منحصر ہونا آپ کو کمزور بنا دیتا ہے۔‘‘ مزید انہوں نے کہا یورپی یونین کے وزرائے دفاع ہمیشہ قومی بجٹ اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہیں، اگر ہمارے دفاعی نظام کی بنیادیں مضبوط ہوں گی تو ہم ایک بڑے علاقے کا احاطہ کر سکتے ہیں۔ کلاس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کہتے ہیں کہ انہیں یورپی فوج کی ضرورت ہے، مگر میرا ایسا خیال ہے کہ عملی طور پر یہ درست نہیں ہے۔ انہوں واضح کیا کہ ’’آپ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک ہی فوج ہے، ایک ہی دفاعی بجٹ ہے، تو اگر آپ پہلے سے ہی نیٹو کا حصہ ہیں تو آپ کو ایک فوج کے علاوہ علاحدہ فوج بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ بحران کے وقت سب سے زیادہ اہم حکم اور اس پر عمل ہے۔ کون کس کو حکم دیتا ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل ایران پر امریکی حملےکا خواہاں، ایرانی میزائل پروگرام کو خطرہ کہا، ٹرمپ سخت سفارت کاری کےحامی

کلاس نے مزید کہا کہ دو مختلف یورپی اور نیٹو کی فوجیں رکھنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہی وجہ ہے کہ میں کہتی ہوں ہمیں اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرنا چاہئے، جو نیٹو کا بھی حصہ ہو، اس سے نیٹو کو بھی فائدہ ہوگا۔ نیٹو کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہے۔‘‘ نیٹو کی فوجی درجہ بندی سے متعلق کلاس نے کہا کہ یورپی یونین کی نیٹو سے ایک درخواست ہے کہ وہ فوجی درجہ بندی اور دیگر معلومات ہمیں فراہم کرے۔ اور اس پر بھی زور دیا کہ وہ الگ سے ایک ایک ملک کی مدد نہیں کر سکتے اسلئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔ اگر وہ تمام چیزیں نہیں جانتے ہیں، تو انہیں جاننے کی ضرورت ہے۔ مزید کہا کہ ’’تمام ممبران کو ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرنے پر رضامند ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ترکی کے بارے میں سوچتے ہیں اور ہم کچھ یورپی یونین ممبران کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں ان رکاوٹوں سے باہر آنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ ہمیں واقعی ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تو ہم دونوں دونوں تنظیموں یورپی یونین اور نیٹو کی مدد کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK