Updated: September 30, 2026, 7:02 PM IST
| san Francisco
سیم آلٹ مین نے کمپنی کی سالانہ ڈیولپر کانفرنس میں ’ڈیٹس‘نامی نئے ’ہمیشہ فعال‘ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس متعارف کرائے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی نے صرف ایک روز قبل اپنے ایک زیادہ جدید اے آئی ماڈل کی ریلیز سیکوریٹی اور حفاظتی خدشات کے باعث روک دی تھی۔
سیم آلٹ مین۔ تصویر:آئی این این
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سیم آلٹ مین نے کمپنی کی سالانہ ڈیولپر کانفرنس میں ’ڈیٹس‘ نامی نئے ’ہمیشہ فعال‘ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس متعارف کرائے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی نے صرف ایک روز قبل اپنے ایک زیادہ جدید اے آئی ماڈل کی ریلیز سیکوریٹی اور حفاظتی خدشات کے باعث روک دی تھی۔
اوپن اے آئی کے مطابق ڈیٹس ایسے اے آئی معاونین ہیں جو صارفین کی جانب سے دیے گئے کاموں کو مسلسل اور فعال انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔ عام چیٹ بوٹ کے برعکس ان کا تصور ایسے معاون کے طور پر کیا گیا ہے جو صرف سوال کا جواب دینے کے بجائے مختلف کاموں کو آگے بڑھانے میں خود بھی کردار ادا کرے۔ کمپنی نے انہیں ایسے ’ہمیشہ موجود‘ اے آئی معاونین کے طور پر پیش کیا ہے جو مختلف منصوبوں اور روزمرہ کے کاموں میں صارف کی مدد کرسکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈیٹس کو مختلف ایپلی کیشنز کے ساتھ مربوط کرکے متعدد کام انجام دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں ملاقات طے کرنا، پرواز بک کرنا، دفتری کاموں کو منظم کرنا، ساتھیوں کو ذمہ داریاں تفویض کرنا اور کاروباری عمل میں مدد فراہم کرنا شامل ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ ایجنٹس ذاتی استعمال کے ساتھ ساتھ کاروباری اور ادارہ جاتی کاموں کے لیے بھی تیار کیے گئے ہیں۔سیم آلٹ مین نے ڈیٹس کو ایک ایسے اے آئی معاون سے تشبیہ دی جو صارف کے ساتھ مسلسل موجود رہتا ہے اور ضرورت کے مطابق مختلف کاموں میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اسے چیٹ جی پی ٹی کے روایتی سوال و جواب کے تجربے سے آگے بڑھتے ہوئے اے آئی کے ساتھ کام کرنے کے ایک نئے طریقے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کراچی فٹبال ٹیم کو بلوچستان ہائی وے پر بندوق کی نوک پر لوٹ لیا گیا
ڈیٹس کے اعلان سے ایک روز قبل اوپن اے آئی نے GPT-6.1 Astra کی ریلیز روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کمپنی کے اندرونی جائزوں میں اس ماڈل کے رویے اور حفاظتی معیارات سے متعلق خدشات سامنے آئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق ماڈل بعض حالات میں دی گئی ہدایات کی حدود سے باہر کام کرتا اور اپنے کیے گئے اقدامات کو واضح طور پر ظاہر نہیں کرتا تھا۔اوپن اے آئی نے اس سے قبل یہ بھی بتایا تھا کہ Astra کی صلاحیتیں سائبر سیکوریٹی کے شعبے میں انتہائی طاقتور سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ کمپنی کے مطابق مناسب اوزار اور رسائی ملنے کی صورت میں یہ ماڈل پہلے سے نامعلوم سیکوریٹی خامیوں کی نشاندہی اور انہیں استعمال کرنے کے طریقے تیار کرسکتا ہے، اسی لیے اس کے لیے مزید مضبوط حفاظتی اقدامات درکار ہیں۔
ڈیٹس کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب خودکار اے آئی ایجنٹس کی سیکوریٹی اور ان پر انسانی نگرانی کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ اوپن اے آئی نے حالیہ دنوں میں اپنے بعض اے آئی ایجنٹس کے انٹرنیٹ استعمال سے متعلق واقعات کا جائزہ لینے کے لیے انتہائی طاقتور ماڈلز کی اندرونی تربیت بھی عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔ سیم آلٹ مین نے ڈیولپر کانفرنس کے سوال و جواب کے دوران کہا کہ اوپن اے آئی اے آئی کی سیکوریٹی، تحفظ اور نگرانی میں مزید سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنی مرکزی تقریر میں روکے گئے ماڈل کے خدشات پر تفصیل سے گفتگو نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے:کیا ’’گیم آف تھرونز: ایگونز کُنکویسٹ‘‘ باکس آفس پر بھی کامیابی کا جھنڈا لہراسکے گی؟
اوپن اے آئی کے نئے ڈیٹس ایجنٹس ایسے وقت میں متعارف ہوئے ہیں جب میٹا بھی اپنے ذاتی اے آئی ایجنٹ Muse کے ذریعے خودکار مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس طرح اے آئی کمپنیاں محض سوالات کے جواب دینے والے چیٹ بوٹس سے آگے بڑھ کر ایسے نظام تیار کر رہی ہیں جو صارف کی جانب سے طویل اور پیچیدہ کاموں کو خود مکمل کرسکیں۔
اوپن اے آئی نے ڈیولپر ڈے کے دوران GPT-6.1 Sol سمیت دیگر مصنوعات اور اپ ڈیٹس کا بھی اعلان کیا۔ کمپنی کی نئی حکمت عملی میں اے آئی کو روزمرہ زندگی اور کاروباری کاموں میں زیادہ فعال اور مسلسل معاون کے طور پر شامل کرنا نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہی ہفتے میں اوپن اے آئی کے اقدامات نے مصنوعی ذہانت کی دو اہم سمتوں کو نمایاں کیا ہے: ایک طرف زیادہ طاقتور ماڈلز کی صلاحیتوں کے ساتھ جڑے سیکوریٹی اور حفاظتی خدشات اور دوسری جانب ایسے ’ہمیشہ فعال‘ اے آئی ایجنٹس کی تیز رفتار ترقی جو صارفین کے لیے خودکار طور پر مختلف کام انجام دے سکیں۔