شمال مغربی ترکی کے دو موٹر سائیکل کے شوقین افراد نے مقدس عمرہ کی ادائیگی کے لیے اپنی موٹر سائیکلوں پر سعودی عرب تک تقریباً۷۰۰۰؍ کلومیٹر کے طویل راؤنڈ ٹرپ سفر کا آغاز کر کے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 7:10 PM IST | Ankara
شمال مغربی ترکی کے دو موٹر سائیکل کے شوقین افراد نے مقدس عمرہ کی ادائیگی کے لیے اپنی موٹر سائیکلوں پر سعودی عرب تک تقریباً۷۰۰۰؍ کلومیٹر کے طویل راؤنڈ ٹرپ سفر کا آغاز کر کے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔
شمال مغربی ترکی کے دو موٹر سائیکل کے شوقین افراد نے مقدس عمرہ کی ادائیگی کے لیے اپنی موٹر سائیکلوں پر سعودی عرب تک تقریباً۷۰۰۰؍ کلومیٹر کے طویل راؤنڈ ٹرپ سفر کا آغاز کر کے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ۵۰؍ سالہ فروح دوران اور۵۵؍ سالہ اسماعیل بوستانچی نے۲۸؍ ستمبر ۲۰۲۶؍کو دوزجے شہر کے مرکز سے اپنے بین البراعظمی روحانی سفر کا باضابطہ آغاز کیا، جہاں جذباتی الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ سواری کے تاحیات جذبے اور گہری روحانی طلب سے متاثر ہو کر یہ دونوں متعدد مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ تک پہنچنے کے لیے ایک چیلنجنگ زمینی راستے پر گامزن ہیں۔
🏍️Motoçiklistët turq nisin një udhëtim prej 7.000 km për të kryer Umren në Arabinë Saudite
— Anadolu Shqip (@aa_albanian) September 28, 2026
Dy entuziastë të motoçikletave nga Turqia veriperëndimore kanë filluar një udhëtim rreth 7.000 kilometra vajtje-ardhje në Arabinë Saudite për të kryer Umren.
Ferruh Duran, 50-vjeç dhe… pic.twitter.com/0oq4qwxH72
ایک سال کی تیاری، ایک خواب کی تعبیر
فروح دوران کے لیے، جو تقریباً۴۰؍ سال کا تجربہ رکھنے والے تجربہ کار رائیڈر ہیں، موٹر سائیکل پر مکہ جانا ایک سال سے زیادہ عرصے سے ایک خواب تھا۔ تاہم طویل فاصلے تک بین الاقوامی سرحدوں کو عبور کرنے میں انتظامی رکاوٹیںدر پیش تھیں۔انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے دوران نے بتایا کہ ’’میں نے مختلف سرحدی دروازوں پر بیوروکریٹک اور سیکیورٹی کے عمل پر تحقیق میں پورا سال گزارا۔ فیصلہ کن لمحہ تب آیا جب شام کے راستے بین الاقوامی گاڑیوں اور موٹر سائیکل ٹریفک کے لیے سرحدیں دوبارہ کھل گئیں۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ آخر کار ممکن ہے۔راستے کی منصوبہ بندی کے بعد دوران کو ایک قابل اعتماد ساتھی کی تلاش تھی۔ دو ماہ قبل ایک مشترکہ دوست نے ان کا تعارف اسماعیل بوستانچی سے کرایا، جو موٹر سائیکل کے شوقین ہیں۔ دونوں میں فوری دوستی ہو گئی اور انہوں نے مل کر یہ مقدس سفر کرنے کا عہد کیا۔
روانگی سے قبل دوران کے آبائی گاؤں کشاچماسی میں ان کے گھر کے باہر ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ خاندان، پڑوسیوں اور گاؤں والوں نے ان کی حفاظت کے لیے دعائیں کیں، اس کے بعد سوار دوزجے کی تاریخی مرکزی جامع مسجد کے سامنے تیار ہو کر روانہ ہوئے۔دونوں سوار دوزجے سے روانہ ہو کر انہوں نے فوری طور پر ترکی کے اندر۹۰۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جنوبی سرحدی صوبہ ہاتائے پہنچے۔۲۹؍ ستمبر۲۰۲۶ء کو انہوں نے ریحانلی ضلع میں جلویگوزو بارڈر کراسنگ کے ذریعے شام میں داخلہ لیا۔شام سے وہ لبنان اور اردن سے گزریں گے۔ اپنے سفر کے دوران وہ دوزجے، ترکی ، جلویگوزو بارڈر ، شام ،لبنان ،اردن ،بحیرہ احمر ساحل ،مکہ مکرمہ، سعودی عرب تک کا سفر کریں گے۔جانے کا راستہ تقریباً ۳۲۰۰؍کلومیٹر ہے، جس سے واپسی کا سفر ملا کر تقریباً ۷۰۰۰؍ کلومیٹر بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی: ۱۹۷۹ء میں کعبہ کا سنہری دروازہ بنانیوالے ۷۸؍ سالہ تھائی فنکار شاہی مہمان
تیاری اور حفاظتی اقدامات
اس پیمانے کے سفر کے لیے محتاط تیاری کی ضرورت ہے۔ بوستانچی نے بتایا کہ انہوں نے دو ماہ میکینیکل چیکنگ اور روٹ میپنگ میں لگائے۔انہوں نے احرام کے کپڑے، حفاظتی جیکٹس، دستانے اور ہیلمٹ ساتھ رکھے ہیں۔ حفاظت کے لیے انہوں نے سخت اصول بنائے ہیں جیسے رات کو سفر نہیں کریں گے، تیز بارش یا ریت کے طوفان میں بائیک روک دیں گے، اور تمام ممالک کے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کریں گے۔
بوستانچی نے کہا، ’’یہ ایک ناقابل بیان احساس ہے۔ جب آپ اس بائیک پر سوار ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ اڑ رہے ہوں۔ یہ خوشی کا گہرا احساس دلاتا ہے، اور اس جذبے کو اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرنا اس سفر کو ناقابل یقین حد تک خاص بناتا ہے۔‘‘