• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دو الیکشن کمشنروں کی ’غیر قانونی‘ قرار دی گئی فارم ۶؍ کی تبدیلی ختم

Updated: September 30, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر رجسٹریشن کے فارم ۶؍میں شامل متنازع اعلان کو ان ریاستوں سے ہٹا دیا ہے جہاں خصوصی جامع نظرثانی (SIR) مکمل ہو چکی ہے۔ یہ فیصلہ فارم میں اضافی شرط شامل کئے جانے پر الیکشن کمشنروں کے اعتراضات اور اس معاملے پر سامنے آنے والے اختلافات کے بعد کیا گیا ہے۔

Election Commissioners. Photo: X
الیکشن کمشنرز۔ تصویر: ایکس

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے نئے ووٹروں کے اندراج کیلئے استعمال ہونے والے فارم۶؍ میں کی گئی متنازع ترمیم کو ان ریاستوں میں ہٹا دیا ہے جہاں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) مکمل ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، یہ تبدیلی فارم۶؍ کے درخواست گزاروں سے ایک حلف نامہ/اعلان طلب کرنے سے متعلق تھی جس میں انہیں یہ بتانا تھا کہ وہ خود، ان کے والدین یا دادا دادی/نانا نانی ماضی میں ہونے والی خصوصی جامع نظرثانی کے دوران تیار کی گئی ووٹر فہرستوں میں درج تھے یا نہیں۔ اس تبدیلی کے بعد اب یہ اعلان صرف ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (UTs) کے درخواست گزاروں کیلئے لازمی ہوگا جہاں ایس آئی آر کا عمل ابھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی فسادات: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں پھر مسترد

یہ تبدیلیاں ECINET پورٹل پر الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے چند روز بعد کی گئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ اعلان صرف انہی علاقوں میں درکار ہوگا جہاں ایس آئی آر جاری ہے۔ اعلان سے متعلق یہ معاملہ دی انڈین ایکسپریس کی ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کے باوجود فارم۶؍ میں یہ شق شامل کی گئی تھی۔ ۱۲؍ جولائی کو اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ ECINET پر آن لائن دستیاب فارم۶؍ میں دو حصوں کے درمیان ایک نیا اعلان شامل کیا گیا ہے۔ ان حصوں میں درخواست گزاروں سے پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ خود، ان کے والدین یا دادا دادی/نانا نانی گزشتہ ایس آئی آر کے دوران تیار کی گئی ووٹر فہرست میں شامل تھے، اور اگر تھے تو متعلقہ بوتھ اور سیریل نمبر فراہم کریں۔ تاہم، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ڈاؤن لوڈ کیلئے دستیاب فارم۶؍ میں یہ اعلان شامل نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: اسمیتا انسٹی ٹیوٹ کے’نامیاتی کھیتی مفت تربیتی کیمپ‘ کا افتتاح

گزشتہ ہفتے دی ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ دو الیکشن کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے اس اعلان کو شامل کئےجانے پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس طرح کی تبدیلی صرف باقاعدہ ترمیم کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ۱۹۵۰ءکے مطابق ووٹروں کے اندراج، نام حذف کرنے اور تصحیح سے متعلق فارم میں ترمیم کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سندھو نے اس تبدیلی کو ’’غیر مجاز/غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ فارم۶؍ میں شامل یہ اعلان سندھو، جوشی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے درمیان اختلافات کا ایک اہم نکتہ تھا۔ 
رپورٹ کے مطابق، ان اختلافات کے نتیجے میں سندھو اور جوشی نے گزشتہ۱۰؍ماہ کے دوران کم از کم۱۴؍ مرتبہ ریکارڈ پر اعتراضات درج کرائے اور نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن آئینی دفعات کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ تاہم، الیکشن کمیشن کا مؤقف تھا کہ فارم۶؍ میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی بلکہ یہ اعلان ایس آئی آر سے متعلق ایک اضافی شرط تھی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ بہار میں ایس آئی آر سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس اعلان کو برقرار رکھا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK