• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امیزون کے بانی جیف بیزوس نے مصنوعی ذہانت کی پزیزرائی کی

Updated: October 09, 2026, 5:02 PM IST | New York

مصنوعی ذہانت (اے آئی) مستقبل میں کام کرنے کے روایتی طریقوں کو بدل سکتی ہے اور لوگوں کے لیے ہفتے میں صرف تین دن کام کرنا اور گھر کے اخراجات ایک ہی فرد کی آمدنی سے پورے کرنا ممکن بنا سکتی ہے۔ معروف کاروباری شخصیت اور امیزون کے بانی جیف بیزوس نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایسے مستقبل کا امکان ظاہر کیا ہے۔

Jeff Bezos.Photo:INN
جیف بیزوس۔ تصویر:آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی) مستقبل میں کام کرنے کے روایتی طریقوں کو بدل سکتی ہے اور لوگوں کے لیے ہفتے میں صرف تین دن کام کرنا اور گھر کے اخراجات ایک ہی فرد کی آمدنی سے پورے کرنا ممکن بنا سکتی ہے۔ معروف کاروباری شخصیت اور امیزون کے بانی جیف بیزوس نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایسے مستقبل کا امکان ظاہر کیا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کام کی پیداواریت میں اضافہ ہوگا، ملازمین کو زیادہ وقت مل سکے گا اور خاندانوں کے لیے معاشی زندگی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
 جیف بیزوس نے فاکس نیوز کے میزبان بریٹ بائر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے پیداواریت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق، جب جدید ٹیکنالوجی کم وقت میں زیادہ کام انجام دینے کے قابل ہوگی تو بعض افراد ہفتے میں صرف تین دن کام کرکے بھی اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں گے۔ اسی طرح ایسے خاندان، جہاں میاں بیوی دونوں ملازمت کرتے ہیں، مستقبل میں صرف ایک فرد کی آمدنی پر انحصار کرنے کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:دوستانہ فٹ بال میچ میں روس کے ہاتھوں ہندوستان خواتین ٹیم کو شرمناک شکست ملی

بیزوس کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی محنت اور وقت کی ضروریات کو تبدیل کرسکتی ہے۔ اس صورت میں ملازمین کو خاندان کے ساتھ وقت گزارنے، ذاتی دلچسپیوں کو پورا کرنے اور زندگی کے دیگر اہم معاملات پر توجہ دینے کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ہفتے میں تین دن کام کرنے کے نظام کے نفاذ کے لیے کوئی حتمی تاریخ یا عملی منصوبہ پیش نہیں کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ دنیا بھر میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں کہ خودکار نظام اور جدید سافٹ ویئر متعدد ملازمتوں کی جگہ لے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس بیزوس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے پیداواریت میں اضافہ ہونے کے نتیجے میں بعض شعبوں میں افرادی قوت کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے، کیونکہ لوگ کم وقت کام کرکے اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔
دوسری جانب امیزون میں ملازمتوں میں کمی کی خبروں کے باعث بیزوس کے اس پُرامید نظریے پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے گزشتہ عرصے میں تقریباً ۳۰؍ہزار کارپوریٹ عہدوں میں کمی کی ہے۔ بیزوس نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وبا کے دوران تیزی سے ملازمین کی بھرتی کو بھی اہم وجہ قرار دیا اور مصنوعی ذہانت کے باعث بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے خدشات سے اختلاف کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:فلمی تنظیم نے تنوشری دتہ کے بیان پر سخت تنقید کردی

ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد عام ملازمین تک کس حد تک پہنچیں گے۔ اگر کمپنیوں کی پیداواریت اور آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا فائدہ تنخواہوں، کم اوقاتِ کار اور بہتر سہولتوں کی شکل میں ملازمین کو بھی مل سکتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر کمپنی اپنے ملازمین کے کام کے دن کم کرے یا انہیں اتنی ہی آمدنی فراہم کرے۔ رہائش، تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات کے اخراجات بھی اس بات کا تعین کریں گے کہ ایک فرد کی آمدنی سے کسی خاندان کی کفالت ممکن ہے یا نہیں۔ لہٰذا بیزوس کا بیان مصنوعی ذہانت کے ممکنہ مستقبل سے متعلق ایک پیش گوئی ہے، نہ کہ تین روزہ ہفتۂ کار کے نفاذ یا تمام خاندانوں کے لیے ایک آمدنی کافی ہونے کی ضمانت مجموعی طور پر جیف بیزوس کے خیالات نے مصنوعی ذہانت، مستقبل کی ملازمتوں، ہفتے میں تین دن کام کرنے کے امکان، ایک آمدنی پر گھر چلانے اور کام و نجی زندگی میں توازن کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی پیداواریت کا فائدہ صرف کاروباری اداروں تک محدود رہتا ہے یا عام ملازمین کو بھی کم کام، بہتر آمدنی اور زیادہ وقت کی صورت میں اس کے ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK