امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان کو مسترد کر دیا، صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہنے کے باوجود امریکہ ،ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 5:01 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان کو مسترد کر دیا، صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہنے کے باوجود امریکہ ،ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور واشنگٹن ایران کے ساتھ پیداواری بات چیت میں مصروف ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاشی اور عسکری طور پر بہت خستہ حالت میں ہے اور آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی۔انہوں نے لکھا،’’ہم ۳؍نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ پیداواری بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: مظاہروں کا دائرہ وسیع، بارسلونا سے ایتھنز تک فری فلسطین کے نعرے
واضح رہے کہ یہ اعلان امریکی میڈیا میں اس خبر کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے کہ واشنگٹن وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔علاوہ ازیں گزشتہ ماہ، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پہلے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اب جنگ کے مذاکراتی خاتمے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔اس کے فوراً بعد، انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں اور رہائش کی لاگت کم ہو جائے گی۔ تاہم پول سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر جو جنگ شروع کی تھی وہ امریکی رائے دہندگان میں غیر مقبول ہے۔
بعد ازاں ایک بڑا مسئلہ ایندھن اور روزمرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل کے بعد سامنے آیا ہے۔ آبی گزرگاہ، جس سے عام طور پر دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھری ہے۔جبکہ ریپبلکن صدر نے کم لاگت کے وعدوں پر مہم چلائی تھی اور بارہا مہنگائی کا الزام اپنے پیشرو جو بائیڈن پر لگایا تھا۔اب جبکہ انتخابات میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، ٹرمپ کو تاریخی طور پر کم ترین عوامی حمایت کا بھی سامنا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کے لیے اہم ہیں، جن کے عہدے صدارت کے ابھی دو سال باقی ہیں۔ تاہم کانگریس کا کنٹرول داؤ پر ہے، جہاں ریپبلکن کواس وقت دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔