این سی پی (شرد) کی جانب سے حمایت کا اعلان ، کانگریس کی جانب سے امیدوار اتارنےکا اشارہ ، ہرش وردھن سپکال دہلی روانہ
EPAPER
Updated: April 29, 2026, 11:58 PM IST | Mumbai
این سی پی (شرد) کی جانب سے حمایت کا اعلان ، کانگریس کی جانب سے امیدوار اتارنےکا اشارہ ، ہرش وردھن سپکال دہلی روانہ
آئندہ ۱۲؍ مئی کو ہونے والے ودھان پریشد (قانون ساز کونسل) الیکشن میں شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے حصہ لیں گے یا نہیں، اس بحث کو ختم کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے اپنی جگہ امباداس دانوے کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ این سی پی (شرد) نے جہاں ان کے اس فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے تو کانگریس نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے ودھان پریشد الیکشن کیلئے اپنا امیدوار کھڑا کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اس تعلق سے اعلیٰ کمان سے گفتگو کیلئے دہلی روانہ ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ۱۳؍ مئی ۲۰۲۶ء کو ودھان پریشد کے ۹؍ اراکین کی میعاد پوری ہو رہی ہے جن میں ادھو ٹھاکرے بھی شامل ہیں۔ اس کیلئے ۱۲؍ مئی کو الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ کانگریس اور این سی پی (شرد) نے ادھو ٹھاکرے کے الیکشن لڑنے پر ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن بدھ کے روز شیوسینا کے نوجوان رکن اسمبلی اور ادھو ٹھاکرے کے فرزند آدتیہ ٹھاکرے نے اعلان کیا کہ امبا داس دانوے شیوسینا (ادھو) کی جانب سے ودھان پریشد کا الیکشن لڑیں گے۔ پارٹی ترجمان سنجے رائوت نے بھی ٹویٹ کرکے اس بات کی تصدیق کی ۔ رائوت نے ٹویٹ کیا ہے ’’ امبا داس دانوے شیوسینا (ادھو) یعنی مہا وکاس اگھاڑی کی جانب سے ودھان پریشد کے امیدوار ہوں اور وہ کل ( جمعرات کو) پرچہ داخل کریں گے۔ ‘‘
رائوت کے ٹویٹ کے بعد این سی پی (شرد)کے ریاستی صدر ششی کانت شندے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم چاہتے تھے کہ ادھو ٹھاکرے خود الیکشن لڑیں لیکن ادھو ٹھاکرے نے امبا داس دانوے کو امیدوار بنایا ہے۔ ہم ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے امبا داس دانوے کی حمایت کریں گے۔ ‘‘
البتہ کانگریس کے بیشتر لیڈران نے اس فیصلے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کانگریس کے آفیشیل واٹس ایپ گروپ پر ایک سطر میں اطلاع دی کہ ’’کانگریس ودھان پریشد الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کرے گی، میں دہلی جا رہا ہوں‘‘ اس کے بعد کانگریس کے اتل لونڈھے ، مانک رائو ٹھاکرے اور سچن ساونت نے میڈیا میں ایک جیسے بیان دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ش وردھن سپکال نے ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کرکے کانگریس کا موقف واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ (ادھو) الیکشن لڑیں گے تو پارٹی ان کی حمایت کرے گی لیکن انہوں نے مہا وکاس اگھاڑیوں میں شامل پارٹیوں سے گفتگو کئے بغیر امبا داس دانوے کو امیدوار بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھو ٹھاکرے کو اس تعلق سے اپنی حلیف پارٹیوں سے گفتگو کرنی چاہئے تھی۔ اب امیدوار اتارنے کا فیصلہ کانگریس اعلیٰ کمان کرے گی۔
یاد رہے کہ اسمبلی میں مہا وکاس اگھاڑی کے پاس صرف اتنے ووٹ ہیں کہ ۹؍ میں سے ایک سیٹ وہ جیت سکتی ہے ۔ لہٰذا اگر شیوسینا (ادھو) اورکانگریس دونوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے تو سیٹ مہا یوتی کے حصے میں جانے کا خدشہ ہے۔