Updated: June 09, 2026, 8:01 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی حزب اختلاف(انڈیا اتحاد) پارٹیوں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے عروج کے تعلق سے غور وفکر کیا گیا، شیوسینا (یو بی ٹی) سربراہ اُدھو ٹھاکرے، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ اور سی پی آئی-ایم ایل (لبریشن) کے جنرل سکریٹری دپنکر بھٹاچاریہ نے اس پلیٹ فارم کا ذکر کیا۔
ہندوستانی حزب اختلاف(انڈیا اتحاد) پارٹیوں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے عروج کے تعلق سے غور وفکر کیا گیا، شیوسینا (یو بی ٹی) سربراہ اُدھو ٹھاکرے، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ اور سی پی آئی-ایم ایل (لبریشن) کے جنرل سکریٹری دپنکر بھٹاچاریہ نے اس پلیٹ فارم کا ذکر کیا۔ٹھاکرے نے سوال کیا کہ کیا عوام نے اپوزیشن پر اعتماد کھو دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اتحاد کو سال بھر متحرک رہنا چاہیے، نہ کہ صرف انتخابات میں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اپوزیشن کو سی جے پی سے جڑنا چاہیے کیونکہ وہ کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ بھٹاچاریہ نے عوامی تحریکوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: اونتی پورہ میں کسانوں کے احتجاج میں پی ڈی پی اراکین بھی شامل
کانگریس لیڈر ششی تھرور نے بھی اس رجحان کو نوجوانوں کے مایوسی کے اظہار سے تعبیر کیا۔اجلاس میں چار ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ٹی ایم سی کی مامتا بنرجی اب مشکلات کا شکار ہیں، جب کہ ڈی ایم کے اتحاد سے باہر ہو چکی ہے۔ اکھلیش یادو نے کانگریس سے کشادہ دلی اور ہم آہنگی کا مطالبہ کیا۔فیصلوں کے تحت، انڈیا اتحاد چیف جسٹس کو انتخابی بے قاعدگیوں پر خط لکھے گا اور تعلیم وزیر دھرمیندر پردھان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔ ملکاارجن کھڑگے نے بتایا کہ اتحاد کی اگلی میٹنگ اگست میں حیدرآباد میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: سڑک کی توسیع کےنام پر جے پور میں مسجد شہید کردی گئی
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ پلیٹ فارم ہے جو چیف جسٹس سری کانت کے ایک تبصرے پر وجود میں آیا۔جس میں انہوں نے ملک کے بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی تھی، حالانکہ چیف جسٹس نے اپنے بیان کے تعلق سے عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے اپنے الفاظ واپس بھی لے لئے تھے، لیکن ان کا یہ عمل نوجوانوں کے غصے کو کم کرنے میں ناکام رہا۔ اسی رد عمل کے طور پر بوسٹن یونیورسٹی کے ایک طالب علم ابھیجیت دپکےنے ایکس پر لکھا کہ ’’ کیا ہو اگر تمام کاکروچ ایک ساتھ آجائیں،‘‘ اور ان کا یہ پیغام تیزی کے ساتھ وائرل ہوگیا۔ جس کے بعددپکے نے مذاقیہ طور پر ایک آن لائن ’’ کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ بنا ڈالی۔ اورکچھ ہی دن میں پورے ملک سے دو کروڑ سے زیادہ نوجوان اس پارٹی کے رکن بن گئے۔ جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے بعد ابھیجیت نے ہندوستان آکر پیپر لیک کے خلاف مظاہرہ کرنے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اور جنتر منتر، دہلی میں امتحانی بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔اتنے کم وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی اس میں شمولیت نے برسراقتداراور حزب اختلاف دونوں کو اپنی کمیوں پر غور کرنے پر مجبور کردیا۔ انڈیا اتحاد کی حالیہ میٹنگ اسی پر غور و فکر کیلئے بلائی گئی تھی۔