Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپین کے وزیر اعظم کا یورپ پر زور،کہا امریکہ کےآگے نہ جھکیں

Updated: March 28, 2026, 2:08 PM IST | Madrid

اسپین کے وزیر اعظم سانچیز نے یورپ پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے ‘آگے نہ جھکے، انہوں نے کہا کہ یورپ کے لیے نیٹو کا۵؍ فیصد جی ڈی پی دفاعی اخراجات کا ہدف پورا کرنا دانشمندانہ نہیں۔

Spanish Prime Minister Pedro Sanchez. Photo: X
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز۔ تصویر: ایکس

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے جمعرات کو یورپ پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے آگے نہ جھکے اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے درمیان ایک زیادہ خود مختار اور مضبوط یورپی یونین کے قیام کا مطالبہ کیا۔میڈرڈ میں ہسپانوی روزنامہ ایل ڈیاریو کے زیر اہتمام ایک تقریب میں انہوں نے کہا، ’’ ایک سال پہلے، بنیادی تشویش امریکی محصولاتی پالیسیوں کی وجہ سے شروع ہونے والی یکطرفہ تجارتی جنگ تھی۔ آج، بدقسمتی سے، عالمی خوشحالی کو لاحق خطرے کا چہرہ اور بھی ظالمانہ ہے جنگ کا چہرہ۔‘‘سانچیز نے کہا کہ یورپ کو اب دفاع، توانائی اور اقتصادی پالیسی میں اپنی آزادی مضبوط کرنے کے لیے جرائت مندانہ فیصلےکرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال جین زی احتجاج: سابق وزیر اعظم اولی اور وزیر داخلہ رمیش لیکھک گرفتار

انہوں نے کہا، ’’یہ وقت ہے کہ ایک زیادہ خود مختار، زیادہ مضبوط، زیادہ آزاد اور زیادہ لچکدار یورپ کی تعمیر کی جائے۔”انہوں نے کہا کہ اسپین اس کوشش کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہے، اور انہوں نے ملک کی اقتصادی ترقی، سبز توانائی کی منتقلی، مالی استحکام اور امن کے حق میں مستقل خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کیا۔جمعرات کو اسپین کے قومی ادارہ شماریات نے کہا کہ معیشت ۲۰۲۵ءمیں۳ فیصد بڑھی، جو یوروزون کی اوسط سے دگنی ہے۔سانچیز نے واشنگٹن اور نیٹو کی جانب سے کیے جانے والے مطالبے کے مطابق دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے۵؍ فیصد تک بڑھانے کے خلاف بھی خبردار کیا، اور کہا کہ یورپ کے لیے ایسا اقدام دانشمندانہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اہم عالمی تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، کو غیر مستحکم کر رہی ہے اور اس سے مزید گہرے معاشی جھٹکے لگنے کا خطرہ ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’یہ ایک تباہی ہے، ایک بڑی سیاسی اور جغرافیائی سیاسی غلطی ہے۔‘‘
بعد ازاں سانچیز نے ایران پر مشترکہ اسرائیلی-امریکی حملوں پر اپنی حکومت کی تنقید کا دفاع کیا، اور کہا کہ میڈرڈنے مسلسل امن کا مطالبہ کیا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس میں تقریباً اکیلے تھے۔انہوں نے کہا، “ہم نے شروع سے ہی امن کا مطالبہ کیا ہے، اور اب بہت سے دوسرے اس مطالبے میں شامل ہو رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب شہریوں کو تنازعات کے معاشی اثرات، خاص طور پر بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت، سے بچانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK