Updated: November 04, 2026, 6:05 PM IST
| Tehran
ایران جنگ کے اثرات امریکی سیاست پر بھی نمایاں ہونے لگے، وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اسے امریکی عوام کا جنگ کے خلاف فیصلہ قرار دیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا کہ ایران جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ اورمحمد باقر قالیباف۔ تصویر: آئی این این
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی انتخابی نتائج پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا ہے۔ ایکس پر اپنے پیغام میں محمد باقر قالیباف نے لکھا کہ ضمیر کی آواز ہو یا مہنگائی کا بوجھ، امریکی عوام نے جنگ کو مسترد کردیا ہے اور ہم اس پیغام کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت اپنے عوام کی خواہشات کے برخلاف عالمی طاقتوں اور بلیک میل کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ کرے گی تو اسے ہمارے انکار کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وسط مدتی انتخابات: کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا قبضہ
دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ریپبلکن پارٹی کو بہتر کارکردگی دکھانی چاہئے تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انتخابی نتائج پر ایران جنگ کا اثر پڑا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام ایران کے معاملے میں ان کے اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ تاریخی اعتبار سے ایران کے خلاف ان کی کارروائیاں آج کے انتخابی نتائج سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے سب سے بڑے ملک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرمپ کے حامیوں کے درمیان بھی اختلافات پیدا کردیئےتھے۔ ان کی جماعت کے کئی حامی جنگ کے نتائج اور اس کے اثرات پر کھل کر تنقید کررہے تھے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے بعض امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، لیکن وہ خود انتخابی میدان میں امیدوار نہیں تھے۔ ان کے بقول، ’’میں بیلٹ پر موجود نہیں تھا، اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔‘‘