سسرال والوں نے موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتائی تھی، مائیکے والوں کی جانب سے قتل کا الزام ، پولیس نے آن کیمرہ پوسٹ مارٹم کروایا
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 11:38 PM IST | Amravati
سسرال والوں نے موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتائی تھی، مائیکے والوں کی جانب سے قتل کا الزام ، پولیس نے آن کیمرہ پوسٹ مارٹم کروایا
امراوتی کی رہنے والی ۱۹؍ سالہ فضیلہ کی شادی اسی سال جنوری میں ناگپور کے رہنے والے زبیر سے ہوئی تھی۔ صرف ۴؍ ماہ بعد ہی سسرال سے فون آیا کہ فضیلہ کی ہارٹ اٹیک کے سبب موت ہو گئی ہے۔ مائیکے والے جب ناگپور پہنچے تو فضیلہ کی موت پر شبہ ہوا۔ وہ فضیلہ کی لاش امراوتی لے آئے یہاں انہیں شبہ ہوا کہ فضیلہ کی موت ہارٹ اٹیک سے نہیں ہوئی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ تب انہوں نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی اور پولیس نے لاش کو قبرستان سے نکالا اور پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا۔
اطلاع کے مطابق امراوتی کے سوداگر پورہ کی رہنے والی فضیلہ جبین(۱۹) کی شادی ناگپور کے زبیر نامی نوجوان سے ہوئی تھی۔کچھ ہی دنوں میں سسرال والے فضیلہ کو جہیز کیلئے پریشان کرنے لگے۔ فضیلہ کے بھائی عارف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ’’مجھے فضیلہ کا فون آیا تھا کہ میں سسرال میں بہت پریشان ہوں اور مجھے میرا شوہر جہیز کیلئے مجھے ہراساں کرتا ہے ۔ یہ لوگ مجھے مار ڈالیں گے ۔ مجھے یہاں سے لے جائو۔‘‘ عارف کا کہنا ہے کہ ’’ میں نے اس سے کہا کہ ایک روز صبر کر لو میں کل آتا ہوں تمہیں لینے۔‘‘ اسی دوران فضیلہ کا فون درمیان ہی میں کٹ گیا۔ بعد میں ان کے پڑوسیوں کا ہمیں فون آیا کہ آپ کی بہن کی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے موت ہو گئی ہے ۔ آپ لوگ یہاں آجائیے۔‘‘
عارف کے مطابق ’’ جب ہم وہاں پہنچے تو ہمیں فضیلہ کی لاش کو دیکھنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم فضیلہ کو غسل دلا دیتے ہیں آپ امراوتی لے جا کر اس کی تدفین کر دیجئے۔‘‘ اس نے بتایا کہ ’’ ان کے گھر کی عورتوں نے ہی فضیلہ کو کفن پہنایا اور ایمبولنس منگوا کر اس میں اپنے ہاتھ سے ڈال دیا۔ ہمیں فضیلہ کا چہرہ تک دیکھنے نہیں دیا گیا۔ جب ہم اسے لے کر امراوتی پہنچے اور اس کی تدفین کی تیاری کرنے لگے تب یہاں کی عورتوں نے دیکھا کہ فضیلہ کی گردن پر رسی کا نشان ہے۔ یعنی اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے۔ اس کے پیر کا ناخن نکلا ہوا ہے۔ اس کی ہم نے تدفین کر دی اس کے بعد پولیس میں شکایت درج کروائی۔‘‘ امراوتی کے ناگپوری گیٹ پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا ۔ اس کے بعد اتوار کو پولیس نے حیدر پورہ قبرستان سے قبر کھود کر لاش باہر نکال لی اور پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنےکے بعد نے آگے کی کارروائی کی جائے گی ۔ فی الحال پولیس نے لاش کا آن کیمرہ پوسٹ مارٹم کروایا ہے۔
پولیس کی اس کارروائی (قبر کھودنے ) کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش میں جو بھی خاطی پایا جائے گا اسے بخشا نہیں جائے گا۔ لڑکی کے والد نے کہا ہے کہ ہمیں انصاف چاہئے۔ جن لوگوں نے ہماری بچی کو قتل کیا ہے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے۔