۱۸۰؍ لڑکیوںکے قابل اعتراض ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں گرفتار نوجوان کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش شروع۔
ایاز کے گھر کا ایک حصہ گرایا جا رہا ہے- تصویر:آئی این این
امراوتی ضلع کے اچل پور میں گرفتار کئے گئےجنسی استحصال کے ۱۹؍ سالہ ملزم ایاز تنویر کے گھر پر انتظامیہ نے بلڈوزر چلا دیا ہے۔ ایاز پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ۱۸۰؍ لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا ہے اور ان کے قابل اعتراض ویڈیو بنائے ہیں۔ اس معاملے میں پولیس نے جڑواں شہر اچل پور پرتھواڑہ شہر سے ایاز کے علاوہ عزیر اقبال خان، تبریز تسلیم خان اور سعد صادق کو گرفتار کیا ہے۔
اس معاملے کے کلیدی ملزم ایاز تنویر کے گھر پر انہدامی کارروائی کی گئی ہے۔ اچل پور میونسپل کونسل نے مکان کے تعلق سے جانچ کی تو انکشاف ہوا کہ کچھ حصے غیر قانونی ہیں۔ اس کے بعد میونسپل کونسل نے ملزم کے اہل خانہ کونوٹس جاری کیا اور بدھ کو بلڈوزر کے ذریعے اس حصے کو منہدم کر دیا۔ اس موقع پر ملزم کے گھر کے قریب پولیس کی سخت پہرہ لگایا گیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم کے موبائل فون سے بڑی تعداد میں فحش ویڈیو ملے ہیں۔ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یہ ویڈیو دیگر ساتھیوں کو بھیجی گئی ہیں یا نہیں۔کچھ ویڈیو پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ملزمین نے موبائل فون سے ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا ہے تاہم سائبر ماہرین کی مدد سے اسے بازیافت کرنے کا کام جاری ہے۔ پولیس اس معاملے میں مکمل تفتیش کر رہی ہے، اور خواتین افسران اور سائبر ماہرین کی مدد لی جا رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے ۷؍ متاثرہ لڑکیوں کے نام ظاہرکئے ہیں۔ عدالت نے تنویر کو ۲۱؍ اپریل تک پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
یہ معاملہ سرخیوں میں آنے کے بعد اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمان انل بونڈے نے الزام لگایا ہے کہ ملزم ایم آئی ایم کا کارکن ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم گینگ کام کر رہا ہے۔ یہ نیٹ ورک اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ پر گروپ بنا کر پھیلایا گیا تھا۔ انہوں نےکہا کہ اگر چکھلدرہ علاقے میں ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو چیک کیا جائے تو اس ریکٹ کے بارے میں بڑا انکشاف ہو سکتا ہے۔ کہ اس معاملے میں اب تک جو۸؍ ویڈیو سامنے آئے ہیں جن میں تمام متاثرین مسلم ہیں۔ اس پر ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیارے خان نے کہا کہ اس سنگین کیس کے کلیدی ملزم ایاز کے گھر کو منہدم کردیا جائے اور ا کی جائیداد ضبط کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ اس کیس کو کوئی مذہبی رنگ نہ دیا جائے۔ یہ جرم انسانیت کے خلاف ہے اور اسے مذہب کا رنگ نہ دے کر قانون کے دائرے میں رہ کر سخت کارروائی کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں اچل پور سے ریاستی اقلیتی کمیشن میں شکایت درج کروائی گئی ہے۔ اس تناظر میں کمیشن کی ایک خصوصی ٹیم کل اچل پور اور پرتھواڑہ کا دورہ کرے گی اور جائے وقوعہ پر مکمل تحقیقات کرے گی جس میں متاثرہ لڑکیوں کی حالت، تحقیقات کی پیش رفت اور مقامی انتظامیہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔