Inquilab Logo Happiest Places to Work

اندوہناک سڑک حادثے میں باپ بیٹی فوت

Updated: March 17, 2026, 2:04 PM IST | Ali Imran | Amravati.Photo:INN

اتوار کی رات امراوتی شہر میں پیش آئے ایک ہولناک سڑک حادثے میں باپ بیٹی کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ دوسری لڑکی شدید زخمی ہوئی ہے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار کار نے پیچھے سے دو پہیہ گاڑی کو ٹکر مار دی۔

Amravati Accident.Photo:INN
امراوتی میں حادثہ۔ تصویر:آئی این این
اتوار کی رات امراوتی شہر میں پیش آئے ایک ہولناک سڑک حادثے میں باپ بیٹی کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ دوسری لڑکی شدید زخمی ہوئی ہے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار کار نے پیچھے سے دو پہیہ گاڑی کو ٹکر مار دی۔ حادثے کے بعد کار ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ اطلاع  کے مطابق مایا نگر علاقہ کے رہنے والے گجانن شری رام ماکوڑے اپنی دو بیٹیوں سپنا ماکوڑے اور پرینکا ماکوڑے کو دو پہیہ گاڑی پر ٹریول اسٹاپ پر چھوڑنے کیلئے گھر سے نکلے تھے۔ اسی دوران شہر کے اولڈ بائی پاس روڈ پر آنند ماربل فیکٹری کے سامنے ان کی موٹر سائیکل کو پیچھے سے آنے والی تیز رفتار کار نے ٹکر مار دی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹر سائیکل پر سوار تینوں؍ لوگ ۵۰؍ سے ۶۰؍ فٹ دور جا گرے اور اُن میں دو کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی راجا پیٹھ تھانے کی موبائل ٹیم فوراً موقع پر پہنچی اور مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال میں داخل کروایا۔ تاہم جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے سپنا ماکوڑے اور اس کے والد گجانن ماکوڑے کو مردہ قرار دے دیا۔
چونکہ پرینکا ماکوڑے کی حالت تشویشناک ہے، اس لئے اُسے مزید علاج کیلئے نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق کار میں دو نوجوان سوار تھے اور شبہ ہے کہ وہ دونوں نشے کی حالت میں تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ حادثے کے بعد کار کی تلاشی لینے پر شراب اور بیئر کی بوتلیں بھی پائی گئیں۔ تصادم کے بعد دونوں نوجوان موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعہ کا راجا پیٹھ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور فرار ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔ اس حادثے سے علاقے میں غم و غصہ ہے، اور علاقے کے شہری کا مطالبہ ہے کہ شرابی نوجوانوں کو تلاش کرکے مقدمہ درج کیا جائے۔
 
 
گیس کا بحران: پارلے جی کی فیکٹری بند
خلیجی ممالک میں جاری جنگ کے اثرات اب براہ راست مقامی صنعتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ بلڈانہ ضلع کے کھامگاؤں میں واقع شیوانگی بیکرس کمپنی کا مشہور ’’پارلےجی‘‘ بسکٹ گیس کی شدید قلت کے باعث تیار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ کمپنی گزشتہ جمعرات سے بند ہے اور کمپنی کا بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اس سے سیکڑوں مزدوروں کے روزگار کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بتادیں کہ شیوانگی بیکرس بنیادی طور پرکریم اور گلوکوزبسکٹ تیار کرتے ہیں۔ یہاں بسکٹ بنانے والے اوون مکمل طور پر گیس سے چلتے ہیں۔ تاہم جنگی بحران کے باعث کمرشل گیس کی سپلائی محدود کر دی گئی ہے۔ نتیجتاً، کمپنی اپنی ضرورت کے مطابق لگنے والی گیس سے محروم ہوگئی ہے۔ گلوکوز اوون سمیت تمام پیداواری عمل کو روکنا پڑا۔ کمپنی میں تقریباً ۵؍ سو ملازمین ہیں، فیکٹری بند ہونے سے ان مزدوروں کے خاندانوں  کیلئے مالی مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ 
 
 
دریں اثنا، کھامگاؤں میںشیوانگی بیکرز کمپنی کے ڈائریکٹر ابھے اگروال نے اس پر مسئلے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہمارا پلانٹ ۱۱؍ مارچ سے بند ہے۔ ہمیں روزانہ ۳؍ ٹن گیس کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ۱۱؍ تاریخ سے ہمیں گیس نہیں مل رہی جس کی وجہ سے ہمارے دونوں پروڈکشن بند ہوگئے ہیں۔ میرے پاس ۵؍ سو کے قریب ملازم کام کرتے ہیں۔ روزانہ ۸۰؍ ٹن بسکٹ تیار ہوتے تھے۔ اس میں سے ۶۰؍ ٹن گلوکوز اور ۲۰؍ ٹن کریم بسکٹ تیار کئے جاتے تھے۔ ہماری کمپنی کی کوششیں جاری ہیں بسکٹ ضروری خدمات ہیں اس  لئےہم ضلع انتظامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمیں گیس فراہم کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK