سمیروانکھیڈے کیخلاف رشوت خوری کے الزام والے گمنام خط سے ہنگامہ

Updated: October 27, 2021, 9:43 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ریاست کے کابینی وزیر نواب ملک نے این سی بی کے زونل ڈائریکٹر کے خلاف لکھے گئے اس لیٹرکو سوشل میڈیا پر جاری کیا، شہریوں کے فون ٹیپ کرنے کا بھی سنگین الزام

Nawab Malik addressing a press conference.
نواب ملک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔

 مہاراشٹر کے کابینی وزیر نواب ملک نے  ایک بے نام لیٹر کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا ہے جس سے ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ ۴؍ صفحات پرمشتمل  ہندی میں ٹائپ شدہ  اس لیٹرسے این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے اور این سی بی کے کردار میں سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں  کیونکہ اس لیٹر میں  آرین خان کی گرفتاری والے کروز چھاپہ کو ملا کر ۲۶؍  چھاپے ماری کے معاملات کو فرضی قرار دیا گیا ہے اور لیٹر میں سمیر وانکھیڈے اور ان کی ٹیم  ممبرا ن  پر بالی ووڈ اور دیگر  شہریوں سے رشوت کا مطالبہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔لیٹر لکھنے والےنے خود کو این سی بی کا رکن بتاتے ہوئے  لیٹر میں لگائے گئے الزامات کی جانچ  انکوائری کمیشن سے کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔دوسری جانب سمیرواکھیڈے کی بیوی اور بہن نے ان الزامات کو سرے سے خارج کیا ہے اوراس ضمن میں اوشیوارہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کی بات بھی کہی ہے۔
 یہ خط نواب ملک کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ، وزیر داخلہ   ، ڈی جی پی ، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بھی بھیجنے کا دعویٰ کیا گیاہے۔
  نواب ملک نے مذکورہ لیٹر ڈائریکٹر جنرل ، نارکوٹکس کنٹرول بیورو( این سی بی) (دہلی )کے پاس بھیجا ہے  اور اس کی جانچ اور اس  پر کارروائی کرنے کی درخواست  بھی کی ہے۔ اس ضمن میں نواب ملک نے کہا کہ’’ میرا مقصد کسی پر ذاتی حملہ کرنا نہیں ہے لیکن جو ’فرضی واڑہ‘ چل رہا ہے،  اسے بے نقاب کرنا ہے۔‘‘ انہوںنے کہ’’ اگر میں نے جوسرٹیفکیٹ وائرل کئے ہیں ، وہ جھوٹے ہیں تو سمیر کے اہلِ خانہ صحیح سرٹیفکیٹ جاری کرے۔‘‘
 ہندی میں تحریری کردہ خط میں متعدد مقدمہ نمبر کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح این سی بی کی ٹیم نے بالی ووڈ سے جڑے افراد  کے گھروں پر چھاپے مارے اور انہیں جھوٹے کیس میں پھنسا کر ان سے رشوت کا مطالبہ کیا ۔
 درخواست گزار نے لکھا ہے کہ وہ  نارکوٹکس کنٹرول بیورو کا ملازم ہے اور ممبئی کے دفتر میں پچھلے ۲؍ برس سے کام کر رہاہے۔ پچھلے سال، جب سشانت سنگھ راجپوت کیس میں این سی بی کو منشیات کے زاویے کی تحقیقات سونپی گئی تھی اور سابق ڈائریکٹر جنرل شری راکیش استھانہ نے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی اور اپنے شاگرد کمل پریت سنگھ ملہوترا کو ایس آئی ٹی کا انچارج بنایا تھا اورانہوں نے سمیر کے ساتھ ممبئی میں منشیات کے زاویے کی تفتیش کی تھی۔ وانکھیڈے چونکہ ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) ممبئی میں کام کر رہا تھا، اس لئے اس نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے پوچھ کر سمیر وانکھیڈے کو این سی بی ممبئی میں زونل ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کرادیا۔ 
 سمیر وانکھیڈے اوران کی ٹیم نے بالی ووڈ اداکاروں کو منشیات کے مقدمے میں پھنسانے کیلئے   کارروائی کی جس کے بعد بالی ووڈ اداکاروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا شروع کردیاگیا۔ کیس کے اندراج کے بعد کے پی ایس ملہوترا اور سمیر وانکھیڈے نے ان فنکاروں سے کروڑوں روپے کا مطالبہ کیا اور کروڑوں روپے جمع کرکے راکیش استھانہ کو مبینہ طور پران کا حصہ بھی دیا۔ چھاپہ مارنے کیلئے جانے والے ٹیم اپنے ساتھ منشیات لے جاتی تھی اور یہ بتایا جاتا تھا کہ ان کے گھر وں سے منشیات ملی ہیں ۔
  لیٹر کے مطابق ان بالی ووڈ اداکاروں  میں دیپیکا پڈوکون، کرشمہ پرکاش، شردھا کپور، اسکول پریت سنگھ، سارہ علی خان، بھارتی سنگھ، ہرش لمباچیا، ریا چکرورتی، سووک چکرورتی اور ارجن رامپال سے یہ ساری رقم ان کے وکیل جناب ایاز خان نے اکٹھی کی تھی۔خط کے مطابق  ایاز خان کی سمیر وانکھیڈے سے دوستی ہے اور وہ بغیر کسی پابندی کے این سی بی کے دفتر آسکتا ہے اور سمیر وانکھیڈے کو بالی ووڈ سے ماہانہ بھتہ دیتا ہے اور اس کے بدلے میں جب سمیر وانکھیڈے بالی ووڈ کے کسی فنکار کو پکڑتا ہے تو وہ ایاز خان کو دیتا ہے۔اپنے وکیل سے پوچھتا ہے کہ کیا ایسا کرنا ہے ۔سمیر وانکھیڈے ایک اٹینشن سیکر آفیسر ہیں اور ہمیشہ میڈیا میں اپنا مقام چاہتے ہیں جس کیلئے اس نے کئی بے گناہ لوگوں کو جھوٹے این ڈی پی ایس مقدموں میں پھنسایا ہے۔
  جھوٹے مقدمات بنانے کیلئے سمیر نے اپنی الگ ٹیم بنائی ہے جس میں سپرنٹنڈنٹ  وشو وجے سنگھ، آئی او ایس آشیش رنجن، کرن بابو، وشواناتھ تیواری اور جے آئی او سدھاکر شندے، او ٹی سی کدم، سپاہی ریڈی، پی ڈی مورے اور  وشنو مینا، یو ڈی سی سورج، ڈرائیور وجے، انل مانے اور سمیر کے پرسنل سیکریٹری شرد کمار شامل ہیں۔او ٹی سی کدم، سپاہی ریڈی، پی ڈی مورے اور وشنو مینا، ڈرائیور انیل مانے، یہ تمام لوگ کسی بھی رہائش گاہ پر تلاشی کے دوران منشیات پلانٹ کرتے (رکھتے)ہیں ۔اگر کسی کے گھر سے کم منشیات ملتی ہے تو اصل مقدار ظاہر نہ کر کے اس مقدار کو کمرشل یا انٹر میڈیٹ بنا دیا جاتا ہے تاکہ مذکورہ شخص کو ضمانت نہ مل سکے۔ آئی اوز آشیش رنجن، کرن بابو، وشوناتھ تیواری اور جے آئی او سدھاکر شندے فرضی پنچنامہ بناتے ہیں اور پنچنامہ این سی بی  دفتر میں لکھا جاتا ہے اور اسے اپنے مطلوبہ وقت پر دکھایا جاتا ہے۔
  سمیر وانکھیڈے اپنے ساتھیوں کو منشیات خریدنے کیلئے لے جاتا ہے اور جھوٹے مقدمات بنا رہا ہے۔ اس کے حمایتیوں کے نام دشرتھ، جمال، افضل، محمد، شیخ، ناصراور عادل عثمانی وغیرہ ہیں جو صرف سمیر کو منشیات فراہم کرتے ہیں۔ جس کو خریدنے کیلئے سمیر سیکرٹ سروس فنڈ( ایس ایس ایف) اور لوگوں کے گھروں سے تلاشی کے دوران لوٹی گئی رقم کا استعمال کرتا ہے۔ 
 لیٹر میں چند ایسے مقدمات( مع کیس نمبر) کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے  جن میں سمیر اور اس کے نام نہاد ٹولے نے تلاشی کے دوران لوگوں کے گھروں میں منشیات رکھ کر جھوٹے مقدمات بنائے۔
 نواب ملک نے پریس کانفرنس میں  سمیر وانکھیڈے پر غیر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کےغیر قانونی طریقے سے فون ٹیپ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے اورکہا کہ ’’ ۲؍ پرائیویٹ افراد کی مدد سے سمیر وانکھیڈے شہریوں کے فون ٹیپ کر رہے ہیں۔ ان میں ایک شخص ممبئی میں جبکہ ایک شخص تھانے میں ہے۔ اس  غیر قانونی فون ٹیپنگ کےثبوت بھی جلد ہی شہریو ںکے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ ان افراد کے نام اور پتے میرے پاس ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK