کورونا کی آڑ میں عام آدمی کی آزادی چھیننےکی کوشش

Updated: July 25, 2021, 11:05 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

’اویک انڈیا موومنٹ ‘کے تحت دادر میں احتجاج، ٹیکہ اور ماسک لگانا لازمی نہ کرنے اور لاک ڈاؤن ہمیشہ کےلئےختم کرنے کا مظاہرین کا مطالبہ

A large number of people participated in the protest held at Kotwal Maidan in Dadar.Picture:PTI
دادر کے کوتوال میدان میں کئے جانے والے احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

 ویکسی نیشن ، ماسک اور لاک ڈاؤن کے ذریعے کورونا سے نمٹنے کے نام پر لوگوں پر کنٹرول کرنے کی حکومت کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے۔ ورنہ آخر سفر ، تعلیم اور دیگر چیزوں سے اسے جوڑنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟ ملازمین سے ویکسی نیشن کی رپورٹ مانگی جارہی ہے ، نہ دینے پر انتباہ دیا جارہا ہے۔ ٹیکہ کاری اور ماسک پہننا ہرگز لازمی نہ کیا جائے۔حالات یہ ہیں کہ  لاک ڈاؤن سماج اور معیشت کے لئے خطرناک ثابت ہورہا ہے، ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں ، لوگ ۲؍ وقت کی روزی روٹی کے لئے تگ ودو کررہے ہیں۔ اس صورتحال کے خلاف دادر کوتوال میدان میں’ اویک انڈیا‘ کے ذریعے  احتجاج کیا گیا۔ یہ احتجاج ملک کے دوسرے حصوں میں بھی کیا گیا۔ مذکورہ بالا باتیں اور مطالبات ان بینروں اور تختیوں پر بھی لکھے گئے تھے جو مظاہرین ہاتھوں میں لئے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے کئی سوالات قائم کئے اور نعرے بازی کی۔
عام آدمی کے ساتھ کھیل ہورہا ہے
  اس احتجاج میں پیش پیش رہنے والے یوحان ٹینگرا نے کہا کہ کورونا وباء اور اس کے نام پر اب تک جو کچھ کیا گیا یا کیا جارہا ہے خواہ وہ ٹیکہ کاری ہو، لاک ڈاؤن ہو، ماسک کی پابندی ہو یا کورونا کی ٹیسٹنگ  یہ ساری چیزیں عام آدمی پر تھوپ دی گئی ہیں حالانکہ آئین میں صحت کے تعلق سے، کھانے پینے کے تعلق سے،  پہننے اوڑھنے کے تعلق سے اور طرزِ معاشرت کے تعلق سے مکمل آزادی دی گئی ہے۔لیکن کورونا کی آڑ میں کہیں نہ کہیں عام آدمی کی اس آزادی کو چھیننے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ 
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس تعلق سے قانونی ضابطے کے مطابق اور طبی نقطۂ نظر سے بھی ہم لوگوں نے کام‌ شروع کیا ہے اور اسے  چیلنج بھی کیا جائے گا۔
  یوحان ٹینگرا نے مزید کہا کہ کورونا کی آڑ میں حکومت نے اپنی ناکامیوں کو آسانی سے چھپانے کی کوشش کی ہے ۔ یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ کتنے بڑے پیمانے پر لوگ بیروزگار ہوئے، مہنگائی نے سارا ریکارڈ توڑ دیا اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اس طرح بے تحاشہ اضافہ ہوا بلکہ مسلسل ہورہا ہے کہ عام آدمی‌کے لئے ضروری اشیاء خریدنا بھی اب‌ آسان  نہیں رہا اس لئے خواہ ٹیکہ کاری ہو یا ماسک پہننا ہو اسے قطعی طور پر لازمی نہیں اختیاری قرار دیا جائے اور نہ ہی تعلیم، سفر ، بینکوں میں لین دین یا کسی اور چیز سے اسے ہرگز نہ جوڑا جائے۔
  عنبر کوئری نے کہا کہ کورونا وباء سے زیادہ اس وباء کا ہوا کھڑا کر  کے عام آدمی کو ایک طرح سے ڈرایا گیا اور اس کی اس انداز میں تشہیر کی گئی کہ اگر اس کے تعلق سے کوئی وضاحت چاہتا ہے یا اپنے ذہن میں قائم ہونے والے سوالات کے جوابات چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر حکومت کا مخالف قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکہ کی دونوں خوراک لینے کے باوجود کئی لوگوں کی جان چلی گئی تو آخر ٹیکہ بنانے والی کمپنیوں کی جواب دہی کیوں نہیں طے کی جاتی تاکہ عام آدمی انصاف کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکے؟  اس لئے ہم لوگوں نے یہ احتجاج کیا اور لاک ڈاؤن اور کورونا سے متعلق دیگر چیزوں کو عوام تک پہنچا کر انہیں بیدار کرنے کی کوشش کی ہے  تاکہ وہ اس تعلق سے اپنا حق سمجھ سکیں۔
  فیروز میٹھی بور والا نے کہا کہ کورونا ٹیسٹ کے نام پر نگیٹیو اور پازیٹیو کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کی بڑی سے بڑی ریلیاں ہوں یا دیگر پروگرام اس میں نہ تو ماسک لازمی قرار دیا جاتا ہے اور سوشل ڈسٹنسنگ کا حال تو پوچھنا ہی کیا لیکن اس وقت نہ تو کورونا کی وباء ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے مہلک اثرات کا کوئی خطرہ بلکہ ساری پابندیاں عام آدمی کے لئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا کے نام پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں اس سے عام آدمی کے بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے ۔ انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا کورونا سے پہلے دیگر جراثیم کا حملہ نہیں ہوا تھا لیکن کیا کبھی اتنی سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں اور عام آدمی کو اتنی طویل مدت تک گھروں میں قید کیا گیا تھا کہ وہ روزی روٹی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہو۔  دراصل کورونا کے پیچھے حکومتوں کا عام آدمی پر کنٹرول کرنے کی کوشش ہے اور اسی سبب اب ٹیکہ کاری کی رپورٹ کو آہستہ آہستہ عام آدمی کے دیگر معاملات سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ مجبور ہو کر ٹیکہ لگوائے ، حالانکہ حکومت کا اس طرح کا قدم آئین کی خلاف ورزی اور عام آدمی کو دئیے گئے صحت کے تعلق سے اس کا حق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ اسی لئے کورونا کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے اس سے عام آدمی کو بیدار کرنے اور اسے سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ ایک بڑی عالمی سازش ہے۔ 

covid-19 Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK