راہل گاندھی نےمتنبہ کیا کہ مودی سرکار کی پالیسیوں سے جو معاشی بحران پیدا ہورہا ہے، اس سے عام شہری، کسان اور مزدور تو برباد ہوں گےمگر بڑے صنعت کار محفوظ رہیں گے
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 2:55 AM IST | New Delhi
راہل گاندھی نےمتنبہ کیا کہ مودی سرکار کی پالیسیوں سے جو معاشی بحران پیدا ہورہا ہے، اس سے عام شہری، کسان اور مزدور تو برباد ہوں گےمگر بڑے صنعت کار محفوظ رہیں گے
کانگریس کے سینئرلیڈرراہل گاندھی نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی معاشی بحران کے خدشات کے درمیان مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایک ’معاشی طوفان‘ ہندوستان کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر عوام،کسانوں، نوجوانوں اور چھوٹے تاجروں پر پڑے گا۔
منگل کورائے بریلی اور امیٹھی کےدو روزہ دورے پر پہنچے راہل گاندھی نے لکھنؤ ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں ملک کو سنگین بحران کی طرف لے جا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی نے جو معاشی ڈھانچہ تیار کیا ہے، وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔راہل گاندھی منگل کو دہلی سے لکھنؤ پہنچے، جہاں سے وہ سڑک کے راستے اپنے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی روانہ ہوئے۔ کانگریس لیڈر نےرائے بریلی میں ایک عوامی پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک کی طرف ایک بڑا معاشی طوفان بڑھ رہا ہے اور اس بحران میںعام شہری، کسان، مزدور، نوجوان اور چھوٹے تاجر تو برباد ہوں گےجبکہ بڑے صنعت کار محفوظ رہیں گے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پر اثرات کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل، ڈیزل اور کھاد کی شدید قلت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں گی جس کے سبب مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔راہل گاندھی کے مطابق پیٹرول مہنگا ہوگا، مہنگائی بڑھے گی، کھاد کی قلت ہوگی لیکن حکومت سنجیدگی سے قدم اٹھانے کی بجائے بیرونی دوروں میں مصروف ہے۔انہوں نے وزیر اعظم مودی کے بیرونِ ملک دوروں پر بھی طنز کرتےہوئےکہا کہ ایک طرف عوام کو سونا نہ خریدنے، غیر ملکی سفر سے بچنے اور الیکٹرک گاڑیاں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم خود مسلسل غیر ملکی دورے کر رہے ہیں۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ’ ’ہم روز کہتے ہیں کہ مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کو بچائیے، لیکن وزیر اعظم کبھی ناروے جاتے ہیں، کبھی جاپان اور پھر کہیں اور، صرف دو صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔‘‘
رائے بریلی سے رکن پارلیمان راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ گزشتہ دس برسوں میں عوامی سرمایہ اور کسانوں کی دولت صرف دو بڑے صنعتکاروں کے حوالے کی گئی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہوائی اڈے ، بندرگاہیں ، بجلی کے منصوبے ، سیمنٹ صنعت ، دفاعی شعبے سے جڑی صنعتیں،سب مخصوص کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورا نظام ایسا بنایا جا رہا ہے کہ عوام کی جیب سے پیسہ نکال کر چند ارب پتیوں کو دیا جائے۔ منریگا اور فلاحی اسکیموں پر خدشات کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں دیہی روزگار اسکیم (منریگا) جیسی فلاحی اسکیموں کو آہستہ آہستہ کمزور کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کئے تو ملک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔