Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایندھن کا بحران شدید،غیریقینی حالات کا اندیشہ

Updated: May 20, 2026, 2:40 AM IST | New Delhi

پیٹرول اور ڈیزل کے دام میں ۴؍ دنوں میں دوسری مرتبہ اضافہ ،اپوزیشن برہم ،کانگریس نے پوچھا کہ اگر روسی تیل آرہا ہے تو بوجھ کیوں بڑھایا جارہا ہے ؟

Petrol in bottles is being provided to some consumers in Bengal amid petrol shortage. (Photo: PTI)
پیٹرول کی قلت کے درمیان بنگال میںکچھ صارفین کو بوتل میں پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

جنگ کی وجہ سے پہلے ہی مہنگائی کے جھٹکے برداشت کررہے ملک کے عوام کو منگل کی صبح  اس وقت مہنگائی کا ایک اور  زوردار دھچکا لگا جب  پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً ۹۰؍ پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ۳؍ دن قبل ہی دونوں کی قیمت میں ۳؍ روپے کا اضافہ کیا گیا تھا ۔ اس اضافہ کے بعدجہاں ایک طرف عوام ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ کانگریس نے قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد سخت رد عمل ظاہر کیا کہ ’’یہ تو بس شروعات ہے۔ ’’مہنگائی مین‘‘ کی جانب سےابھی مزید وصولی ہو گی، کیونکہ انتخابات ختم ہو گئے ہیں۔‘‘ اسی درمیان معاشی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرتیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو ہندوستان کی اقتصادی ترقی، روزگار کا منظرنامہ، سرمایہ کاری اور عام شہری کی قوتِ خرید سب متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے اقتصادی رفتار برقرار رکھنا ہوگا۔ 
 کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن شکتی سنگھ گوہل نے پریس کانفرنس کے دوران مرکزی حکومت اور وزیر اعظم مودی کی عوام مخالف پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف ٹرانسپورٹ شعبہ اور کسان متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ملک کی توانائی سے متعلق خود کفالت بھی خطرے میں پڑرہی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران شکتی سنگھ گوہل نے پوچھا کہ اگر روسی تیل خریدنے کی اجازت مل گئی ہے تو پھر قلت کیوں ہے ؟ اور دام کیوں بڑھائے جارہے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ روسی تیل کی کھیپ ملنے کے بعد حکومت دام کم کرنے کا اعلان کرتی لیکن اس نے دام بڑھادئیے۔شکتی سنگھ گوہل نےیہ بھی کہا کہ وزیر اعظم مودی گزشتہ دنوں گجرات آئے،  یہاں کئی ریلیوں سے خطاب کیا اور لوگوں کو ایندھن بچانے کے کئی  مشورے دئیے لیکن چند گھنٹوں بعد وہ خود بیرون ملک روانہ ہو گئے۔   اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے۔

ماہرین کا کیا کہنا ہے ؟
 معروف بینکر اور ماہر معاشیات اُدے کوٹک  نے خبردار کیا ہے پیٹرول  اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ محض شروعات ہےکیونکہ اس کے اثرات جلد ہی پوری معیشت میں مہنگائی کی نئی لہر کی صورت میں پھیل سکتے ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی ادارہ گولڈ مین ساخس نے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے اندازوں میں نمایاں کٹوتی کردی ہے۔ ادارہ نے ۲۰۲۶ء کیلئے شرحِ نمو کا تخمینہ ایران جنگ سے پہلے کے ۷؍ فیصد سے گھٹا کر ۵ء۹؍فیصد کردیا ہے۔اس وقت  بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتیں، روپیہ کی گرتی قدر، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بازار سے انخلا، اور ایل پی جی اور ایل این جی کی قلت مل کر ہندوستانی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کی مشکلات میں اضافہ 
 ۲۰۱۴ء میںاقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت کو عالمی سطح پر خام تیل کی گرتی قیمتوں کا غیر معمولی فائدہ ملا تھا مگر اب ایران تنازع کے سبب وہ ’’خوش قسمتی‘‘ ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔اگست۲۰ء۱۴ء سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی اور دسمبر تک یہ گھٹ کرمحض ۵۹؍ ڈالر فی بیرل رہ گئی تھی ۔تیل کی قیمتوں میں اس غیر متوقع کمی نے مودی حکومت کیلئے ایک سنہری موقع فراہم کیا۔ حکومت کو نہ صرف سبسیڈی کے بوجھ  سے راحت ملی بلکہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے، مالی خسارہ کم کرنے اور اقتصادی استحکام کا تاثر پیدا کرنے میں بھی مدد ملی۔ تاہم اب مودی حکومت مشکل میں پڑنے والی ہے۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK