Inquilab Logo

’’امریکہ ،پوتن اور کم جونگ اُن کی ملاقات پر تنقید کر کے منافقت کر رہا ہے‘‘

Updated: September 15, 2023, 12:28 PM IST | Agency | Washington/Moscow

امریکہ میں مامور روسی سفیر اناتولی انتونوف کا بیان ، روسی صدر ولادیمیر پوتن کی شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن سے ملاقات پرامریکی تنقید کا جواب ، کہا ، امریکہ ہمیں لیکچر نہ دے۔

Russian President Vladimir Putin, North Korean Supreme Leader Kim Jong Un and others. Photo: AP/PTI
روسی صدر ولادیمیر پوتن، شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن اور دیگر۔ تصویر:اےپی / پی ٹی آئی

روس نے اپنے صدر ولادیمیر پوتن کی شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن سے ملاقات پر تنقید کرنے پر امریکہ کو جواب دیا ہے۔ دریں اثناءکم جونگ ان نے ولادیمیر پوتن کو شمالی کوریا کے دورے کی دعوت دی اور روسی صدر نے اسے قبول کیا ۔ 
 میڈیارپورٹس کے مطابق جمعرات کو امریکہ میں مامور روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ،’’ امریکہ پوتن اور کم جونگ اُن کی ملاقات پر تنقید کر کے منافقت کر رہا ہے۔ امریکہ خود افراتفری کا بیج بو کر دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کو ہتھیار بھیجتا ہے، اس کو ہمیں لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں کہ ہم کیسے رہیں ۔‘‘
 انہوں نے کہا ،’’ امریکہ نے ایشیا میں اتحاد بنا کر جزیرہ نما کوریا کے قریب فوجی مشقیں کیں اور اربوں ڈالرز کے ہتھیار یوکرین کو فراہم کر رہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ واشنگٹن اپنی پابندیاں ردی کی ٹوکری میں پھینک دے، اس کیلئے یک طرفہ غلبے کو برقرار رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔‘‘
خیال رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے ولادیمیر پوتن اور کم جونگ اُن کے درمیان بڑھتی دوستی تشویش کا باعث ہے۔امریکہ نے شمالی کوریا پر روس کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ہتھیاروں کی ترسیل ہوئی بھی ہے یا نہیں ۔
اسی دوران شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا (ڈی پی آر کے) کے دورے کی دعوت دی ہے جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔
 اس بارےمیں  یونہاپ نیوز ایجنسی نے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے حوالے سے بتایا کہ کِم نے روس کے اَمور علاقے میں ووستوچن خلائی مرکز میں روس-شمالی کوریا سربراہی اجلاس کے بعد بدھ کو پوتن کے ساتھ عشائیہ میں یہ دعوت دی۔
یادرہےکہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اتوارکو پیانگ یانگ سے اپنی ٹرین سےروس روانہ ہوئے تھے، وہ منگل کو ماسکو پہنچے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK