آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فیصلہ واپس لینے کی مانگ کی، سپریم کورٹ سے رجوع کا انتباہ، مولانا ارشد مدنی نے بھی اسے مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 7:48 AM IST | Lucknow
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فیصلہ واپس لینے کی مانگ کی، سپریم کورٹ سے رجوع کا انتباہ، مولانا ارشد مدنی نے بھی اسے مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا
مودی حکومت کے ذریعہ قومی گیت ’وندے ماترم ‘کے تمام ۶؍ بند پڑھنے کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید برہمی پھیل گئی ہے۔مسلم تنظیموں نے اسے مذہبی آزادی کے منافی قرار دیتےہوئے حکومت سے نوٹیفکیشن واپس لینے کی مانگ کی ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں مسلم تنظیموں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس نوٹیفکیشن کو واپس لے، ورنہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے کہا ہے کہ ’’اسکولوں اور سرکاری تقاریب میں وندے ماترم کے تمام بند لازمی پڑھوانا غیر آئینی ہے، مذہبی آزادی اور سیکولر اقدار کے منافی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس گیت میں درگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی عبادت کی بات کی گئی ہے جو مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہیں۔ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ ’’یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ممنوع ہے۔‘‘
بورڈ نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہندوستانی عدالتیں بھی یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ گیت کے کئی بند سیکولر اقدار کے خلاف ہیں، ان کے پڑھنے پر رکاوٹ عائد کرچکی ہیں۔اسی کا حوالہ دیتے ہوئے پرسنل لاء بورڈ نے مطالبہ کیا کہ ’’فوراً یہ نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔‘‘ جمعرات کو جاری کئے گئے ایک پریس بیان میں بھی مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری محمد فضل الرحیم مجدددی نے حکومت کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے مودی سرکار کے اس فیصلے کو ’’سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف، غیر آئینی، مذہبی آزادی اور سیکولر اقدار کے منافی‘‘ قرار دیا اور یاد دہانی کرائی کہ رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورہ کے بعد قانون ساز اسمبلی میں غوروخوض کر کے یہ طے کیاگیاتھا کہ وندے ماترم کے صرف پہلے ۲؍ بند ہی پڑھے جائیں گے۔ پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ ’’ایک سیکولر حکومت کو کسی ایک مذہب کے عقائد دوسرے مذاہب کے پیروکاروں پر نہیں تھوپنا چاہئے۔ یہ گیت بنگال کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔‘‘ بورڈ نے زور دیکر کہا ہے کہ مغربی بنگال کے انتخابات سے عین قبل کئے گئے اس فیصلے کے پیچھے جو سیاسی وجوہاتھ کچھ بھی ہوں، مسلمان اسے قبول نہیں کر سکتے ، یہ ان کے عقیدہ سے متصادم ہے۔‘‘
حب الوطنی نہیں سیاسی ایجنڈہ کی علامت
جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اس فیصلے کو ’’یک طرفہ اور جبر‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نےکہا ہےکہ سرکاری پروگراموں، اسکولوں، کالجوں اور دیگر تقریبات میں تمام چھ بند لازمی کرنا مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کےخلاف ہے۔ ایکس پر جاری کئے گئے تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ’’ مسلمان کسی کو وندے ماترم پڑھنے یا بجانے سے نہیں روکتے لیکن اس کے وہ بند قابل اعتراض ہیں جن میں وطن کو دیوی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ اسلام کے عقیدۂ توحید سے متصادم ہے۔ ‘‘مولانا نے کہا کہ ’’مسلمانوں کو ایسے بند پڑھنے پر مجبور کرنا آئین کے آرٹیکل۲۵؍ کے تحت دی گئی ضمانت کی خلاف ورزی ہوگی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت کا یہ اقدام حب الوطنی نہیں ہےبلکہ ’’انتخابی سیاست اور فرقہ وارانہ ایجنڈے‘‘ کی علامت ہے۔
آئین کی روح کے منافی
سی پی ایم کے پولیٹ بیورو نے بھی مودی سرکار کے حکم پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’آئین کی روح کے منافی ‘‘قراردیا ۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ حکم قومی ترانے پر قومی گیت کو ترجیح دیتا ہے اور آئینی روح کی عکاسی نہیں کرتا۔ سی پی آئی (ایم) نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل۵۱؍اے(اے) میں شہریوں کا فرض صرف قومی ترانے اور قومی پرچم کے احترام کا ذکر ہے۔پارٹی نے بی جےپی پر غیر ضروری تنازع پیدا کرنے کا الزام لگایا۔