• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ سی سی کیمرے خراب ہونا محض اتفاق ہے یا کچھ اور معاملہ ہے؟‘‘

Updated: February 12, 2026, 5:06 PM IST | Agency | Lucknow

ہائی کورٹ کااترپردیش حکومت سے سوال،چیف سکریٹری کو حلف نامہ داخل کرنے یا پھر۲۳ ؍فروری کو ذاتی طورپر حاضر ہونے کا حکم۔

The High Court Has Summoned The UP Government To Court Several Times.Photo:INN
ہائی کورٹ نے یوپی سرکار کو کئی بارعدالت میں طلب کیا ہے۔ تصویر:آئی این این

اتر پردیش کے تھانوں میں لگے سی سی کیمروں کے خراب ہونے کے معاملے میں ہائی کورٹ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو اس سلسلہ میں حلف نامہ داخل کرنے یا پھر ۲۳ ؍فروری کو بنچ کے سامنے ذاتی طورپر حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس عبد المعین اور جسٹس ببیتا رانی کی بنچ نےمعذور شخص کی تھانے میں ہوئی پٹائی کے معاملہ میں داخل رٹ پر سماعت کے دوران سی سی فوٹیج طلب کی، جس پر پولیس نے کیمروں کے خراب ہونے کی بات کہی۔ اس پر بنچ نے کہاکہ یہ محض اتفاق ہے کہ عدالت کوجب بھی تھانوں کی فوٹیج کی ضرورت ہوتی ہے وہاں کے کیمرے خراب ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کمال خان کا دعویٰ: راجپال کے پاس ۵۰؍ کروڑ کی جائیداد، بیوی کو جیل کیوں نہیں؟

بنچ نے کہا کہ اب اس طرح کی شکایت پر اعلیٰ افسران کی جواب دہی طے کرنا ہوگی ۔ ضلع سلطانپور میں رہنے والے معذور شخص شیام سندر نے ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی تھی کہ ۶ ؍ستمبر ۲۰۲۵ء کی رات میں پولیس اسے گھر سے اٹھالائی ،رات بھر تھانے میں رکھ کر اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اوراس کے بعد بی این ایس کی دفعہ ۱۰۹ ؍کے تحت مقدمہ درج کیاگیا تھا۔ شیام سندر نے اپنے خلاف درج مقدمہ کو رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی تھی ،جس میں اس نے اپنے دعوے کو درست ثابت کرنے کیلئے متعلقہ تھانہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کی بات کہی تھی۔اس پر بنچ نے پولیس کپتان سے تھانہ کی فوٹیج کو عدالت میں پیش کرنےکا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ سے اختلاف ، کنیڈا پر عائد محصولات ختم کرنے کا بل منظور

 اس معاملہ پربدھ کو سماعت ہوئی ،جس میں سلطانپور پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تھانے کاسی سی کیمرہ یکم جون سے خراب ہونے کی وجہ سے بند ہے ۔ پولیس کے اس جواب کو بنچ نے’عجیب ‘ بتاتے کہاکہ اس کا ذکر تھانے کی جنرل ڈائری میں نہیںملا اور نہ ہی تھانہ انچارج نے اس کی شکایت ٹیکنکل سیکشن سے کی ہے اور جب ستمبرماہ میں عدالت نے اس کو طلب کیا تو اس کے بعد اس کو درست کرانے کی کوشش شروع کی گئی ۔ بنچ کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفا ق ہے کہ جب بھی جس کسی تھانے کی فوٹیج عدالت میں طلب کی جاتی ہے تو وہ بند یا خراب بتائے جاتے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں فوٹیج کو کم سے کم ۶؍ سے ۱۸ ؍ماہ تک محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا ۔ اسی طرح سے اترپردیش کے ڈی جی پی نے کم سے کم ڈھائی ماہ تک محفوظ رکھنے کا حکم تھانوں کو دیا تھا ۔ بنچ نے اس لاپروائی اور اس طرح کی دیگرلاپروائیوں کو روکنے کیلئے چیف سکریٹری کو ضلع کے بڑے افسران جیسے پولیس کپتان یا پولیس کمشنر کی ذمہ داری طے کرتے ہوئے گائیڈ لائن جاری کرنے کا حکم دیا ہے ۔ بنچ نےاس سلسلے میں چیف سکریٹری کو ۲۳ ؍فروری ۲۰۲۶ء تک پرسنل حلف نامہ کے طورپر جانچ رپورٹ اور گائیڈ لائن جاری کرنے کی ہدایت دی ہے ، ایسا نہ کرنے پر بنچ نے ۲۳؍ فروری کو چیف سکریٹری کو ذاتی طورپر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK