سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ ۱۰۰؍ کروڑ کے گھوٹالے کے الزامات پر شدید برہم، سوال کیا کہ ۴؍ سال میں ۱۵؍ خطوط لکھنے کے باوجود فرنویس خاموش کیوں ؟گورنر سے اپیل کی کہ وہ فرنویس حکومت کورپورٹ عام کرنے کی ہدایت دیں، آئندہ اسمبلی اجلاس میں رپورٹ ایوان میں بھی پیش کرنے کا مطالبہ۔
مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ۔ تصویر: آئی این این
سابق وزیر داخلہ اور این سی پی(شرد) کے سینئر رہنما انیل دیشمکھ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان پر ۱۰۰؍کروڑ روپے کی وصولی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے جانے کے بعد بامبے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس چاندیوال کی سربراہی میں ۱۳؍ماہ تک تفصیلی تحقیقات کی گئی تھیں ۔ اس تحقیقات کے بعد جسٹس چاندیوال نے ۴۰۰؍صفحات پر مشتمل جامع رپورٹ تقریباً چار سال قبل ریاستی حکومت کو پیش کردی تھی، لیکن اب تک اسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ دیشمکھ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چار برسوں کے دوران خود وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ۱۵ خطوط لکھ کر رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اگر رپورٹ میں انیل دیشمکھ کو پھانسی دینے کی سفارش کی گئی ہے تو انہیں پھانسی دے دی جائے، لیکن اگر الزامات ثابت نہیں ہوتے تو حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔ حکومت کی خاموشی کے بعد اب انہوں نے گورنر سے رجوع کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو رپورٹ عام کرنے کی ہدایت دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں بھی رپورٹ ایوان کے سامنے پیش نہیں کی گئی تو انہیں ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ ناگپور میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انیل دیشمکھ نے چاندیوال کمیشن کی زیر التوا رپورٹ، ناسک کمبھ میلے میں مبینہ بدعنوانی، قانون ساز کونسل کے انتخابات میں مہایوتی کو پہنچنے والے نقصان، ناگپور گریجویٹ حلقہ انتخاب میں کانگریس کی کامیابی، شکتی پیٹھ ہائی وے پر ہونے والے غیر ضروری اخراجات اور خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کے ساتھ مبینہ مذاق سمیت مختلف امور پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
۴۰۰؍ صفحات کی رپورٹ چار سال سے کیوں دبائی گئی؟
چاندیوال کمیشن کی رپورٹ کے معاملے پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دیشمکھ نے کہا کہ سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کے ذریعے مخالفین نے ان پر ۱۰۰؍کروڑ روپے کی وصولی کا الزام عائد کروایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے خود اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ جسٹس چاندیوال نے ۱۳ ؍ماہ تک عدالتی کارروائی کرتے ہوئے تفصیلی تحقیقات کیں اور ۱۴۰۰؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ حکومت کو پیش کی۔
اُدھو ٹھاکرے کو رپورٹ عام کرنے کا موقع نہیں ملا
انیل دیشمکھ نے کہا کہ جب یہ رپورٹ پیش کی گئی اس وقت اُدھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ تھے، لیکن رپورٹ پیش ہونے کے محض ۲۰؍ سے۲۵؍دن بعد ان کی حکومت گر گئی جس کی وجہ سے وہ رپورٹ عام نہیں کرسکے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت گزشتہ چار برسوں سے اس رپورٹ کو دبائے کیوں بیٹھی ہے؟
یہ بھی پڑھئے: ہراسانی کی تمام حدیں پار؟ جیل سے رِہا ہوتے ہی اعظم خان کو ای ڈی نے گرفتار کرلیا!
گورنر سے رجوع، عدالت جانے کا انتباہ
دیشمکھ نے کہا کہ انہوں نے خود وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ۱۵ خطوط لکھے، لیکن اس کے باوجود رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ اس طرح عوام کا پیسہ اور عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہوا ہے۔ انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ فرنویس کو چاندیوال کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دیں، بصورت دیگر ان کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔
۱۶؍ جون کو گورنر سے معاملے کی شکایت کی تھی
انیل دیشمکھ نے اس سلسلے میں ۱۶؍ جون۲۰۲۶ء کو گورنر کو شکایت پیش کی تھی۔ وہ اب تک دفتر وزیر اعلیٰ کو۱۵؍ سے زیادہ خطوط اور۱۹؍ اکتوبر کو۱۴؍ واں میمورنڈم بھی بھیج چکے ہیں۔ تاہم وزیر اعلیٰ کی طرف سے کوئی ٹھوس کارروائی یا جواب نہیں ملا ہے۔ ۱۶؍ جون اور۳۱؍ جولائی کو بھیجے گئے خطوط کے بعد وزیر اعلیٰ کے دفتر نے معاملہ محکمہ داخلہ، محکمہ قانون و انصاف اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو منتقل کر دیا۔ اسپیڈ پوسٹ اور ای میل کے ذریعے۶؍ اگست کو فالو اپ کرنے کے باوجود ان محکموں کی جانب سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ انیل دیشمکھ نے ایک سے دوسرے محکمہ میں معاملہ منتقل کرنے کا الزام لگایا ہے۔