جمعیۃ علمائے ہند کی منتظمہ میں مولانا محمود مدنی کا واضح پیغام، کہا :اس ملک میں مسلمان ہونا جرم بنا دیاگیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 11:04 AM IST | New Delhi
جمعیۃ علمائے ہند کی منتظمہ میں مولانا محمود مدنی کا واضح پیغام، کہا :اس ملک میں مسلمان ہونا جرم بنا دیاگیا ہے۔
جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے سنیچر کو میوات میں تنظیم کی مجلس عاملہ کے دوسرے دن ملک کے حالات پر تشویش کااظہار کرتےہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’ہم (مسلمان) یہاں کرائے دار نہیں بلکہ حصہ دار ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اورالزام لگایا کہ اقلیتوں کے آئینی حقوق کو کمزور کرنے اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ میوات میں جمعیۃ علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کو پرایا یا دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش کرنے والے آئین، تحریک آزادی اور جمہوریت سے غداری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں کرایہ دار نہیں بلکہ اس ملک کے برابر کے حصہ دار ہیں۔ ہم اس ملک میں کسی کی مہربانی یا کسی سیاسی جماعت اور فرقہ پرست طاقتوں کے احسان کی وجہ سے نہیں رہ رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک آزادی کے دوران مسلمانوں کی قربانیوں کے آثار ملک بھر میں ان کے آباؤ اجداد کی قبروں کی صورت میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دہرادون: بجرنگ دل نے مسجد کی مرمت کا کام رکوایا، غیر قانونی تعمیر کا الزام
انہوں نے سوال کیاکہ ’’کیا اس ملک میں مسلمان ہونا جرم بن گیا ہے؟‘‘۳۰؍ اور ۳۱؍ اکتوبر کو نوح کے ڈی ایل ایف اسپرنگ فیلڈ میں منعقدہ اس اجلاس میں ملک بھر سے مجلس منتظمہ کے اراکین، علمائے دین اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فرقہ پرستی، نفرت انگیز تقاریر، یکساں سول کوڈ (یو سی سی)، اوقاف کی جائیدادوں اور فلسطین کی صورت حال سمیت مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مولانا مدنی نے الزام لگایا کہ ملک کو مذہبی امتیاز پر مبنی نظریاتی تصادم کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے نفرت انگیز تقاریر، ہجومی تشدد اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی مبینہ عدم کارروائی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے۱۶۰۰؍سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے لیکن۸۷؍فیصد معاملات میں پولیس نے ایف آئی آر بھی درج نہیں کی۔