Inquilab Logo Happiest Places to Work

انکت شرما قتل کیس: دہلی پولیس ۶؍ ملزمین کی رہائی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی

Updated: August 13, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi

دہلی پولیس نے ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران قتل کیے گئے آئی بی افسر انکت شرما کے کیس میں بری کیے گئے ۶؍ ملزمین کی رہائی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ان ملزمین کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تیاری جاری ہے، جبکہ اسی معاملے میں عمر قید کی سزا پانے والے ناظم اور قاسم نے اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دہلی پولیس نے بدھ کو دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں بری کیے گئے ۶؍ ملزمین کی رہائی کو چیلنج کرے گی۔ انکت شرما ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران قتل کئے گئے تھے۔ واضح ہو کہ یہ بات جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن کی بنچ کے سامنے اس وقت کہی گئی جب عدالت اس معاملے میں مجرم قرار دئیے گئے ناظم اور قاسم کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کر رہی تھی۔ دونوں نے اپنی سزا اور عمر قید کو چیلنج کیا ہے۔ دہلی پولیس کے خصوصی وکیل رجت نائر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ بری کیے گئے ۶؍ ملزمین کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ نائر نے عدالت سے کہا، ’’ریاست ان ۶؍ بری کیے گئے ملزمین کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔‘‘ ہائی کورٹ نے ناظم اور قاسم کی اپیلوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔ دونوں کی جانب سے عمر قید کی سزا معطل کرنے کی درخواستوں پر ۲؍ دسمبر کو غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: سورت میں ۱۲۵؍ کروڑ روپے کی سائبر دھوکہ دہی کا پردہ فاش، مزید چار ملزمین گرفتار

۵؍ ملزمین کو سزا، ۶؍ بری

ٹرائل کورٹ نے سابق عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین کے علاوہ جاوید، انس، ناظم اور قاسم کو انکت شرما قتل کیس میں مجرم قرار دیا تھا۔ پانچوں کو قتل، فساد برپا کرنے، غیر قانونی اجتماع اور مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے سمیت دیگر جرائم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ نے طاہر حسین سمیت ملزمین کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا اور دلیل دی تھی کہ شرما پر جس انداز میں حملہ کیا گیا، اس کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ سزا دی جانی چاہئے۔ تاہم ٹرائل کورٹ نے حسین، سمیر خان، فیروز، گلفام، شعیب عالم اور منتظم کو بری کر دیا تھا۔ دہلی پولیس کے تازہ بیان کے بعد اب ان ۶؍ ملزمین کی رہائی کو بھی ہائی کورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔

مجرم قرار دئیے گئے ملزمین نے شواہد پر سوال اٹھائے

بدھ کی سماعت کے دوران ناظم اور قاسم کے وکلا نے ان کے خلاف استعمال کیے گئے شواہد پر سوال اٹھایا۔ ان کے وکلا نے عدالت میں دلیل دی کہ ملزمین کی شناخت کیلئے کوئی ٹیسٹ آئیڈینٹی فکیشن پریڈ (شناخت پریڈ) نہیں کرائی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی گواہی کو آزاد شواہد کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ ہائی کورٹ نے دونوں ملزمین کی سزا اور عمر قید کے خلاف اپیلوں پر غور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۵۸؍ لاکھ کنبی ریکارڈ میں ۳۷؍ لاکھ پرانے ہیں جنکے سرٹیفکیٹ جاری ہو چکے ہیں

انکت شرما کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

یہ معاملہ ایف آئی آر نمبر ۶۵/ ۲۰۲۰ء سے متعلق ہے، جو شرما کے والد رویندر کمار کی شکایت پر دیال پور پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ شکایت کے مطابق، انکت شرما ۲۵؍ فروری ۲۰۲۰ء کو کام سے گھر واپس آئے تھے، لیکن اس کے بعد گھریلو سامان خریدنے کیلئے دوبارہ باہر گئے۔ جب وہ واپس نہیں لوٹے تو اہل خانہ نے ان کی تلاش شروع کی۔ بعد میں اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ ایک شخص کو مبینہ طور پر قتل کرکے چاند باغ پلیا کے قریب ایک نالے میں پھینک دیا گیا ہے۔ بعد ازاں نالے سے شرما کی لاش برآمد کی گئی اور اسے جی ٹی بی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ طور پر شرما کے جسم پر ۵۱؍ زخم پائے گئے، جن میں تیز دھار ہتھیاروں اور کند اشیا سے لگنے والے زخم بھی شامل تھے۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ شمال مشرقی دہلی میں جاری تشدد کے دوران ایک ہجوم نے شرما پر حملہ کیا اور بعد میں ان کی لاش نالے میں پھینک دی۔

واضح ہو کہ ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے تشدد کا سلسلہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج اور اس کے جواب میں ہونے والے مظاہروں کے دوران شروع ہوا تھا۔ اس تشدد میں کم از کم ۵۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اب ہائی کورٹ دونوں مجرم قرار دئیے گئے ملزمین کی اپیلوں پر غور کرے گی، جبکہ دہلی پولیس بری کیے گئے دیگر ۶؍ ملزمین کی رہائی کو الگ سے چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK