Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک میں ملک کی پہلی ’اے آئی‘ یونیورسٹی کے قیام کا اعلان

Updated: July 15, 2026, 10:04 AM IST | Bangalore

ریاستی وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ طلبہ کو ابتدائی سطح ہی سے مصنوعی ذہانت کی مہارتوں سے لیس کیا جائے گا تاکہ وہ مستقبل کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کیلئے تیار ہو سکیں۔

Chief Minister DK Shivakumar addressing the inaugural session of ‘Google I/O Connect India’. Photo: INN
’گوگل آئی/او کنیکٹ انڈیا‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار۔ تصویر: آئی این این

 کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے منگل کو اعلان کیا کہ ریاستی حکومت اسکولی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تعلیم شروع کرے گی۔ یہ پہل کرناٹک کو ملک کا اے آئی دارالحکومت بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
 بنگلور انٹرنیشنل ایگزی بیشن سینٹر (بی آئی ای سی) میں منعقدہ’گوگل آئی/او کنیکٹ انڈیا۔۲۰۲۶‘کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ طلبہ کو ابتدائی سطح ہی سے  اے آئی کی مہارتوں سے لیس کیا جائے گا تاکہ وہ مستقبل کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کیلئے تیار ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی اے آئی پالیسی تعلیم، جدت طرازی، بنیادی ڈھانچے اور ہمہ جہت ترقی پر مرکوز ہوگی۔
 ریاست کے وزیراعلیٰ نے ملک کی پہلی اور سب سے بڑی اے آئی یونیورسٹی اور ایک اے آئی انوویشن ہب کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ ان اداروں کا مقصدمصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدید تحقیق، مہارت کے فروغ اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے اے آئی ایکو سسٹم کی مدد کیلئے بنگلور اور ریاست کے ساحلی علاقوں میں جدید ترین گرین ڈیٹا سینٹرز قائم کئے جائیں گے، جو اے آئی پر مبنی اقتصادی ترقی کیلئے ضروری ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ فراہم کریں گے۔
   شیوکمار نے بتایا کہ’بیونڈ بنگلور‘ پہل کے تحت میسور، منگلور، ہبلی، دھارواڑ، بیلگام اور کلبرگی کو عالمی ٹیکنالوجی مراکز کے طور پر تیار کیا جائے گا تاکہ دارالحکومت سے باہر بھی نوجوانوں کو مواقع  مل سکیں۔یہ مرکز تقریباً ۱۰۰؍ ایکڑ قطعہ اراضی پر محیط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد لوگوں کو بااختیار بنانا ہے، نہ کہ ان کی جگہ لینا۔ اسی سوچ کے تحت حکومت کسانوں کیلئے کنڑ زبان میں اے آئی پر مبنی آڈیو مشاورت، دیہی صحت کی خدمات میں بہتری اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم جیسی پہل کو فروغ دے رہی ہے۔ 
 وزیراعلیٰ نے ’گورنمنٹ فرسٹ‘  پالیسی کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت ریاستی حکومت اسٹارٹ اپس کی تیار کردہ جدید ترین ٹیکنالوجیز کو سب سے پہلے سرکاری منصوبوں میں نافذ کرے گی۔ انہوں نے سمٹ کے انعقاد کیلئے بنگلور کے انتخاب پر گوگل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر جدت طرازی کے مرکز کے طور پر ابھرا  ہے اور ریاستی حکومت کرناٹک کو مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں سرفہرست بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی مدد سے اساتذہ بہتر تعلیم فراہم کر سکیں گے، ڈاکٹر بیماریوں کا پہلے پتہ لگا سکیں گے، کسانوں کو بہتر مشاورتی خدمات حاصل ہوں گی، شہری سرکاری خدمات سے مستفید ہوں گے اور چھوٹے کاروبار یقینی طور پر اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کرناٹک کے ساتھ گوگل کی دو دہائیوں پرانی شراکت کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سرچ، اینڈرائیڈ، یوٹیوب، میپس، کروم، جی میل اور گوگل پے جیسی مصنوعات نے ہندوستانیوں کے معلومات تک رسائی، کاروبار کرنے اور سرکاری خدمات کے استعمال کے طریقے کو بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس  سے طلبہ کیلئے نئے مواقع کھلیں گے۔ بقول وزیراعلیٰ ’’اے آئی یونیورسٹی کا آغاز طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا اور انہیں ریسرچ، اسٹارٹ اپس اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔ ‘‘ 
 انہوںنے کہا کہ اے آئی موجودہ دور کی سب سے بڑی تکنیکی تبدیلی ہے اور اس کا اثر بھاپ کے انجن، بجلی، انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی جیسی تاریخی ایجادات کے برابر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کرناٹک کو ذمہ دارانہ اے آئی کا عالمی مرکز بنانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔انہوں نے بتایا کہ کرناٹک کا ملک کی مجموعی سافٹ ویئر برآمدات میں تقریباً ۴۰؍ فیصد حصہ ہے جبکہ صرف بنگلور میں۱۷؍ ہزار سے زیادہ نئی کمپنیاں اور ہزاروں عالمی صلاحیتی مراکز سرگرم ہیں، جو دنیا بھر کیلئے جدید تکنیکی مصنوعات اور خدمات تیار کر رہے ہیں۔

karnataka Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK