Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلور: پتھر کی کان میںکام کررہے مزدوروں پرچٹان گری، ۹؍ ہلاک

Updated: July 03, 2026, 10:35 AM IST | Agency | Bengaluru

جائے وقوع پرتقریباً۱۸؍ مزدور کام کررہے تھے کہ ۴۰؍فٹ کی بلندی سے چٹان ان پر آگری ،حادثہ پرکرناٹک کے وزیر ا علیٰ کا اظہار غم۔

A Crowd Gathered Near The Quarry After The Accident. Photo: PTI
حادثہ کے بعدکان کے قریب جمع بھیڑ ۔تصویر: پی ٹی آئی
کرناٹک کی راجدھانی بنگلور کے جنوبی تعلقہ واقع مداپٹنا علاقہ میں جمعرات کی صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ یہاں ایک پتھر کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں پر اچانک ایک بڑی چٹان آ گری۔ اس حادثہ میں۹؍ مز دوروں کی موت ہو گئی ۔ پولیس کے مطابق جان گنوانے والے مزدور بہار اور آسام کے رہنے والے تھے اور یہاں یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے۔پولیس نے بتایا کہ حادثہ کے وقت تمام مزدور کان میں پتھر توڑنے کا کام کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی چٹان ان پر آ گری اور وہ اس کے نیچے دب گئے جس کے باعث موقع پر ہی ان کی موت ہو گئی۔ ایک مزدور نے بتایا کہ حادثہ کے وقت وہاں تقریباً۱۸؍ مزدور کام کر رہے تھے۔ یہ چٹان تقریباً۴۰؍ فٹ کی بلندی سے نیچے گری تھی۔ اتنی زیادہ بلندی سے گرنے کی وجہ سے مزدوروں کو بچنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔حادثہ میں زخمی ہونے والے مزدوروں کو فوری طور پر قریبی پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ 
 
 
 
اب تک زخمیوں کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچ گئیں اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کر دیا۔پولیس نے بتایا کہ تمام ہلاک شدگان کی شناخت کی جا رہی ہے اور ان کے اہل خانہ کو اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے ہر پہلو سےجانچ شروع کردی ہے۔یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کان میں حفاظتی اصولوں پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔اس درمیان کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بنگلورو جنوبی تعلقہ کے مداپٹنا علاقے میں پیش آئے اس دردناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK