ریاستی یونٹ نے اس عمل کو جماعتی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
کرناٹک میں اپوزیشن لیڈر آراشوک۔ تصویر:آئی این این
کرناٹک میں اپوزیشن لیڈر آر اشوک کے اس انکشاف کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے کہ ریاستی قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے انتخابات میں بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے پارٹی لائن کے خلاف کراس ووٹنگ کی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کو واضح اشارے ملے ہیں کہ کونسل انتخابات کے دوران بی جے پی کے ایم ایل ایز نے پارٹی کے سرکاری مؤقف کے برخلاف ووٹ دیا۔ انہوں نے اس عمل کو جماعتی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اندرونی جائزہ مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی کے اراکین کی کراس ووٹنگ سے اعلیٰ قیادت بھی حیران و ششدر ہے۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو ابھی تک ایسا لگتا تھا کہ وہ لوگ دوسروں کو کراس ووٹنگ کیلئے مجبور کرسکتے ہیں۔
آر اشوک نے کہا کہ ہمارے پاس معلومات ہیں کہ بی جے پی کے دو سے تین اراکین اسمبلی نے کراس ووٹنگ کی ہے۔ پارٹی اس معاملے میں سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو تنظیمی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ان کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ان شبہات کو تقویت ملی ہے کہ کونسل انتخابات کے دوران بعض اراکین نے پارٹی ہدایات سے ہٹ کر ووٹنگ کی تھی۔ ایسے انتخابات میں ووٹنگ کے رجحانات کو عموماً پارٹی اتحاد، اندرونی ہم آہنگی اور قیادت سے وفاداری کے پیمانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرناٹک بی جے پی قیادت اب اس معاملے کی تفصیلی اندرونی جانچ شروع کر سکتی ہے تاکہ کراس ووٹنگ میں ملوث اراکین کی شناخت کی جا سکے اور اس کے پس منظر کو سمجھا جا سکے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ معاملہ تادیبی کارروائی کیلئے پارٹی کی مرکزی قیادت کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ریاستی یونٹ نے پارٹی کی قومی قیادت کو تفصیلات سے آگاہ کرنےکیلئے ۲۳؍ جون کو نئی دہلی میں پارٹی کے قومی صدر سے ملاقات بھی کی ہے۔