Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک کے وزیر ٹرانسپورٹ کو بھی کنڈکٹروں کی من مانی کا سامنا کرنا پڑا

Updated: July 14, 2026, 1:13 PM IST | Bengaluru

ریاستی وزیر بی سریش نے شناخت چھپا کرسرکاری بسوں میںسفر کیا ، ایک بس میںکنڈکٹر کو انہوں نے ٹکٹ کیلئے ۱۰۰؍ روپےدئیے لیکن کھلاپیسہ نہ ہونے پرکنڈکٹر نےانہیںبس سےاتر جانے کیلئے کہہ دیا۔

A conductor talking to Karnataka Minister B Suresh. Photo: INN
ایک کنڈکٹر کرناٹک کے وزیر بی سریش سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

کرناٹک کے وزیر ٹرانسپورٹ بی سریش نے عوامی نقل و حمل کے نظام میں جوابدہی، نظم و ضبط اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے بھیس بدل کر بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) کی بسوں میں اچانک معائنہ کیا، جہاں انہیں کنڈکٹروں اور ڈرائیوروں کی من مانی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا خود سامنا کرنا پڑا۔ہفتہ کی شب وزیر نے اپنی شناخت چھپا کر تقریباً دو گھنٹے تک بی ایم ٹی سی کی دس سے زائد بسوں میں عام مسافر کی حیثیت سے سفر کیا تاکہ روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو درپیش مشکلات کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: طبیلے میں گائے تھی ہی نہیں، کیمیکل کے ذریعے دودھ تیار کیا جا رہا تھا!

سب سے اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ہیبل سے ناگاشیٹی ہلی جا رہے تھے۔ انہوں نے ٹکٹ خریدنے کیلئے۱۰۰؍ روپے کا نوٹ دیا، لیکن کنڈکٹر نے یہ کہتے ہوئے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا کہ اس کے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں، اور انہیں بس سے اتر جانے کے لیے کہا۔ کنڈکٹر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ جس مسافر سے مخاطب ہے، وہ ریاست کے وزیر ٹرانسپورٹ ہیں۔ اس واقعے نے شہر کے بس مسافروں کی ایک عام شکایت کو نمایاں کر دیا۔وزیر کے اس اچانک معائنے کے دوران صرف کھلے پیسوں کا مسئلہ ہی سامنے نہیں آیا بلکہ دیگر بے ضابطگیاں بھی  منظرِ عام پر آئیں۔ ایک دوسری بس میں انہوں نے دیکھا کہ ڈرائیور اور کنڈکٹر نے ایک مسافر کی ’فن ورلڈ ‘بس اسٹاپ پر گاڑی روکنے کی درخواست کو نظر انداز کر دیا، جس کے باعث وہ اپنے مقررہ اسٹاپ پر نہیں اتر سکا۔ وزیر نے اس رویے کو ناقابلِ قبول غفلت قرار دیتے ہوئے دونوں ملازمین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ان کا معائنہ بسوں تک محدود نہیں رہا۔ ناگاشیٹی ہلی میں انہوں نے ایک آٹو رکشا ڈرائیور کو بھی روکا جس نے میٹر  پر۳۰؍ روپے کرایہ ظاہر ہونے کے باوجود مسافر سے۳۶؍ روپے طلب کئے تھے ۔ اس واقعے سے مسافروں سے زائد کرایہ وصول کرنے کے مسئلے کی بھی نشاندہی ہوئی ۔ بعد ازاں وزیر بی سریش نے کہا کہ اس خفیہ معائنے کا مقصد صرف سرکاری رپورٹوں پر انحصار کرنے کے بجائے عام مسافروں کے حقیقی تجربات کو براہِ راست سمجھنا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بنگلورکے عوامی ٹرانسپورٹ نظام میں جوابدہی، نظم و ضبط اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے اس نوعیت کے اچانک معائنے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK