کالجوں پران طلبہ کی تعداد کی بنیاد پر جرمانہ عائدکیا جائے گا جن کا داخلہ ڈیٹا غائب ہے یا غلط جمع کرایا گیا ہے۔ ایسےطلبہ کی فیس دوگنی کی جاسکتی ہے
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 11:21 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
کالجوں پران طلبہ کی تعداد کی بنیاد پر جرمانہ عائدکیا جائے گا جن کا داخلہ ڈیٹا غائب ہے یا غلط جمع کرایا گیا ہے۔ ایسےطلبہ کی فیس دوگنی کی جاسکتی ہے
تعلیمی سال ۲۶- ۲۰۲۵ ء کےداخلے کےعمل کےدوران ممبئی یونیورسٹی کے پورٹل پر داخلہ کی تفصیلات کے اندراج میں غلطیوں یا تاخیر پر کالجوں اور طلبہ پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ کئی کالجوں کی جانب سے بار بار یاددہانی کے باوجود طلبہ کا ڈیٹا جمع نہ کرنےکی وجہ سے کیا گیا ہے۔کالجوں پر ان طلبہ کی تعداد کی بنیاد پر جرمانہ کیا جائے گا جن کا داخلہ ڈیٹا غائب ہے یا غلط جمع کرایا گیا ہے۔
اس ضمن میں جاری سرکیولر کے مطابق کالجوں کو ان طلبہ کی تعداد کی بنیاد پر جرمانہ کیا جائے گا جن کا داخلہ ڈیٹا غائب ہے یا غلط جمع کرایا گیا ہے۔ اگر ایک سے پانچ طالب علموں کے معاملات میں غلطیاں پائی جاتی ہیں، تو کالج کو ہر طالب علم کی ٹیوشن فیس کو دگنا کرنے کے علاوہ ۲؍ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر طالب علم پر ۵؍ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔اگر ایسے معاملات کی تعداد ۶؍ سے ۲۰؍طلبہ کے درمیان ہوگی تو کالج پر۵؍ لاکھ روپے تک جرمانہ کیاجاسکتاہے ۔اس کے علاوہ فی طالب علم ٹیوشن فیس دوگنی ہو جائے گی اور ہر طالب علم پر ۵؍ ہزار روپے جرمانہ عائد ہو گا۔
ایسے کالجوں کیلئے جہاں ۲۱؍ سے ۴۰؍طلبہ کے داخلے کے ڈیٹا میں غلطیاں پائی جاتی ہیں،ان کالجوں پر۱۰؍لاکھ روپے جرمانہ عائدکیاجائے گا، جس کیساتھ ہر طالب علم کی ٹیوشن فیس دوگنی ہوگی۔ ایسے معاملات میں یونیورسٹی تعلیمی سال ۲۷-۲۰۲۶ ء سے کالج میں داخلے کی تعداد ۲۵؍فیصد کم کردےگی۔اگر ۴۱؍سے زائد طلبہ متاثر ہوتے ہیں تو کالج کو ٹیوشن فیس کے تین گنا کے ساتھ ۱۰؍لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اس کی انٹیک کی گنجائش ۲۵؍فیصد کم ہو جائے گی ساتھ ہی ایک انکوائری کمیٹی قائم کی جائے گی۔
سرکیولرمیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہےکہ جب تک جرمانہ کی ادائیگی نہیں کی جائے گی کوئی نئے داخلے کی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی کالج غلطی کو دہراتا ہے تو ۲۸-۲۰۲۷ ء میں اس کی داخلے کی گنجائش۵۰؍فیصد کم ہوجائے گی اور اگر تیسری بار ایسا ہوا تو داخلے مکمل طور پر روکے جا سکتے ہیں۔
’مہاراشٹر یونین آف سیکولر ٹیچرس (مسٹ)‘ نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں یونین نے کہا کہ سزائیں غیر منصفانہ، طالب علم مخالف اور تعلیمی نظام کیلئےنقصان دہ ہیں۔ اس نے دلیل دی کہ ’سرور‘ کی خرابی، دیر سے یا تبدیل ہونے والی ہدایات اور یونیورسٹی کے نامکمل پورٹلز کی وجہ سے اکثر تاخیر ہوتی ہے۔
یونین کے چیئرپرسن وجے پوار نے نشاندہی کی کہ۵؍ہزار روپے جرمانہ خاص طور پر طلبہ کیلئے سخت ہے۔ کالجوں پر بھاری جرمانہ ان کے تعلیمی کام کو متاثر کر سکتا ہے اور اساتذہ اور طلبہ کے درمیان تناؤ پیدا کر نےوالا ہے۔اس فیصلہ کو فوری طورپر واپس لیاجائے یہ ہمارا مطالبہ ہے۔