بیجنگ کے مطابق امریکہ اور تائیوان نے ہو نڈوراس اور چین کو ایک دوسرے سے قریب ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کو شش کی
EPAPER
Updated: April 04, 2023, 11:59 AM IST | Beijing/Tegucigalpa
بیجنگ کے مطابق امریکہ اور تائیوان نے ہو نڈوراس اور چین کو ایک دوسرے سے قریب ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کو شش کی
: ہونڈوراس کی صدر جلد ہی چین کا دورہ کریں گے ۔ اس دوران بیجنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور تائیوان نے چین اور ہونڈوراس کو ایک دوسر ے سے قریب ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہاں تک کہ تائیوان نے میڈیا کو خرید نے کیلئے رقم بھی ادا کی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ہونڈوراس کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ ملک کی صدر ژیومارا کاسترو جلد ہی چین کا دورہ کریں گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ہونڈوراس نے تائیوان سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرکے چین سے سفارتی تعلقات قائم کرلئے ہیں۔
یادرہےکہ نومبر ۲۰۲۱ء میں اپنی صدارتی مہم کے دوران کاسترو نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئیں تو تائیوان انتظامیہ سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیں گی اور چین سے سفارتی تعلقات قائم کریں گی۔
چین اور ہو نڈورواس کے سفارتی تعلقات بحال ہونے پر ہونڈوراس کے شہری جارج انتونیو یانس فرنینڈس کا کہنا ہے،’’ چین اور ہونڈوراس کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام واقعی ایک بڑی خبر ہے ۔ ہمیں دنیا کے سامنے کھل کر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے اور دنیا کو ہونڈوراس کیلئے کھولنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کا اہم فیصلہ کرنے پر وہ صدر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
د ریں اثناء ریڈیو چین نے دعویٰ کیا ہےکہ جیسے ہی ہونڈوراس اور چین کے ایک ہونے کی خبر منظر عام پر آئی ، تائیوان کی علاحدگی پسند طاقت گھبرا گئی اور اس نے چین اور ہونڈوراس کے درمیان سفارتی تعلقات کے خاتمے کیلئے مقامی میڈیا کو خریدنے کی کوشش کی اور براہ راست رقم بھی ادا کر دی ۔
ریڈیو چین نے لکھا ہے ،’’یہ دیکھ کر کہ کاسترو نے اس سلسلےمیں اپنا فیصلہ کر لیا ہے ، تائیوان انتظامیہ کو بھی امید تھی کہ امریکہ کوئی قدم اٹھائے گا۔نومبر ۲۰۲۱ء میں امریکی معاون وزیر خارجہ برائن نکولس ہونڈوراس پہنچے اور سر عام کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ہونڈوراس تائیوان سے سفارتی تعلقات برقرار رکھے گا۔رواں سال جنوری میں امریکہ نے تائیوان انتظامیہ سے ہنڈوراس کی مدد کیلئے سہ فریقی منصوبہ مرتب کیا ۔ اور ۱۵ ؍مارچ کو جب کاسترو نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ وہ چین سے سفارتی تعلقات قائم کرنےکی خواہشمند ہیں تو سابق امریکی سینیٹر کرسٹوفر ڈوڈ نے صدر کے خصوصی مشیر کی حیثیت سے ہونڈوراس کا ہنگامی دورہ کیا تاکہ ہونڈوراس کو اپنی بات پر قائل کر سکے لیکن نتائج سب نے دیکھ لئے۔‘‘ آگےریڈیو چین نے سخت لہجے میں لکھا ’’تائیوان انتظامیہ کی ڈالر ڈپلومیسی اور رائے عامہ کو خریدنے کی چال بیکار گئی اور امریکہ کی مداخلت ناکام ثابت ہوئی ۔