Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کے سب سے زیادہ آئی کیو والے ممالک، جنوبی کوریا سر فہرست

Updated: April 23, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi

۲۰۲۶ء کی عالمی آئی کیو درجہ بندی میں مشرقی ایشیا کی برتری برقرار رہی، جہاں جنوبی کوریا، چین اور جاپان بدستور سرفہرست رہے۔ ویتنام اور آسٹریلیا نے نمایاں ترقی دکھائی، جبکہ ہندوستان ٹاپ ۱۰؍ میں جگہ بنانے میں ناکام رہا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عالمی آئی کیو درجہ بندی ۲۰۲۶ء کے تازہ اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ذہانت کے پیمانوں میں مشرقی ایشیائی ممالک کی برتری برقرار ہے۔ یہ ڈیٹا بین الاقوامی آئی کیو ٹیسٹس اور عالمی شماریات پر مبنی ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ نتائج مکمل تصویر پیش نہیں کرتے کیونکہ تعلیم، ماحول اور سماجی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ٹاپ ۱۰؍ ممالک ۲۰۲۶ء
(۱) جنوبی کوریا۔ اوسط آئی کیو: ۹۷ء۱۰۶
تعلیم، خاص طور پر STEM (سائنس و ریاضی) پر زور نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسرے سال پہلی پوزیشن دی۔

(۲) چین۔ اوسط آئی کیو: ۴۸ء۱۰۶
وسیع آبادی اور تعلیم میں سرمایہ کاری نے اسے مضبوط پوزیشن عطا کی۔ 

(۳) جاپان۔ اوسط آئی کیو: ۳۰ء۱۰۶
نظم و ضبط اور اعلیٰ خواندگی کی شرح اس کی طاقت ہے۔

(۴) ایران۔ اوسط آئی کیو: ۸ء۱۰۴
سائنس اور انجینئرنگ کے شعبوں میں ترقی نے اس سال درجہ بندی بہتر کی۔

(۵) آسٹریلیا۔ اوسط آئی کیو: ۴۵ء۱۰۴
اس سال بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اعلیٰ یونیورسٹیز اور تعلیمی رسائی اہم وجہ بنیں۔

(۶) روس۔ اوسط آئی کیو: ۷۸ء۱۰۳
روایتی تعلیمی مضبوطی اب بھی برقرار۔

(۷) سنگاپور۔ اوسط آئی کیو: ۵۶ء۱۰۳
معمولی کمی کے باوجود مضبوط تعلیمی نظام کی بدولت ٹاپ ۱۰؍ میں برقرار۔

(۸) منگولیا۔ اوسط آئی کیو: ۶۱ء۱۰۲
مضبوط تعلیمی نظام کے ساتھ نمایاں کارکردگی ظاہر کی۔

(۹) نیوزی لینڈ۔ اوسط آئی کیو: ۳۵ء۱۰۲
مسلسل مستحکم کارکردگی کے ساتھ فہرست میں شامل۔

(۱۰) ویتنام۔ اوسط آئی کیو: ۲۶ء۱۰۲
اس سال سب سے بڑی چھلانگ لگائی۔ ڈجیٹل تعلیم اور اصلاحات کا اثر۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین نے مغربی ایشیا میں استحکام کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا

ہندوستان کی رینکنگ
ہندوستان اس فہرست میں ٹاپ ۱۰؍ میں شامل نہیں ہے۔ ۲۰۲۶ء کے اندازوں کے مطابق ہندوستان ۵۰؍ ویں نمبر پر ہے۔ یہاں کا اوسط آئی کیو ۴۴ء۹۸؍ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان میں تعلیمی معیار میں بہتری، ڈجیٹل رسائی، اور دیہی و شہری فرق کو کم کرنا مستقبل میں اس رینکنگ کو بہتر بنا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ درجہ بندی صرف ٹیسٹ اسکورز پر مبنی ہے، اس لیے اسے کسی ملک کی مکمل ذہانت یا صلاحیت کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھا جاتا۔ ثقافت، تعلیم، غذائیت اور معاشی حالات جیسے عوامل بھی نتائج پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK