مظلوم خواتین کیلئے کاما اسپتال میں’ سکھی ون اسٹاپ سینٹر‘ قائم کرنےکااعلان

Updated: May 15, 2022, 10:05 AM IST | Mumbai

اس مرکز میں مظلوم خواتین اور بچوں کوعلاج کے ساتھ قانونی مدد بھی فراہم کی جائے گی،شیلٹر کے ساتھ ان کی کائونسلنگ کا بھی اہتمام کیا جائے گا

Kama Hospital where oppressed women will be fully assisted
کاما اسپتال جہاں مظلوم خواتین کی پوری طرح مدد کی جائے گی(تصویر:بپن کوکاٹے)

کے ای ایم اسپتال کےبعد چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس پرواقع کامااسپتال میں مظلوم خواتین اور بچوں کے علاج اورقانونی مدد کیلئے ’سکھی ون اسٹاپ‘ قائم کرنےکا اعلان کیاگیاہے۔سینٹر پرمظلوم خواتین اوربچوںکا علاج کرنے کے ساتھ انہیں قانونی صلاح مشورہ دینےکا ایک ہی چھت کے نیچے انتظام کیاجائے گا۔کا ما اسپتال کا سینٹر ممبئی کادوسرا اس طرح کا مرکز ہوگاجہاں مظلوم خواتین اور بچوں کو اس طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی۔واضح رہے مظلوم خواتین اور بچوںکا وقت پر علاج کےساتھ انہیں قانونی مدد اور کائونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔انہیں اسپتال میں ان سہولیات کیلئے پریشان ہونے سے بچانے کیلئے ۲۰۱۵ءمیں مرکزی خواتین و اطفال شعبہ نے سکھی ون اسٹاپ پروجیکٹ متعارف کروایاتھا۔اس پروجیکٹ کے تحت  ۲۰۱۹ءمیں کے ای ایم اسپتال پریل میں پہلا سکھی ون اسٹاپ قائم کیاگیاتھا۔ کے ای ایم کےبعد کاما اسپتال میں اس پروجیکٹ پرعمل کرنےکی تیاری جاری ہے۔ فی الحال ملک میں تقریباً۷۳۳؍ اس طرح کے سینٹر ہیں جو مظلوم خواتین وبچوںکی اس معاملہ میں مدد کررہےہیں۔ کامااسپتال کے مذکورہ سینٹر سےمتعلق یہاں کے ڈین ڈاکٹر تشار پالوےنے بتایاکہ ’’ اس ِضمن میں ۲؍میٹنگ ہوچکی ہیں۔سینٹر کہاںقائم کیا جائے گا اس کا بھی فیصلہ ہوگیاہے۔ اُمید ہےکہ جلد ہی اس پروجیکٹ پر عمل کیاجائےگا۔‘‘اس پروجیکٹ کے تحت سکھی ون اسٹاپ سینٹر میں آنے والی مظلوم خواتین اوربچوںکا علاج کرنے کےعلاوہ ان کی شکایت پولیس تھانےمیں درج کروائی جائے گی، ساتھ ہی انہیں قانونی مدد بہم پہنچائی جائےگی۔ انہیں شیلٹر کی سہولت فراہم کی جائے گی، متاثرہ خواتین اور بچوں کی کائونسلنگ کی جائےگی۔ ساتھ ہی عدالتی اور پولیس جانچ کیلئے ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت سکھی سینٹرسےمہیاکروائی جائے گی۔ یہ سینٹر ۲۴؍گھنٹے اپنی خدمات پیش کریگا۔متاثرین کیلئے اسپتال، پولیس اسٹیشن، وکیل اور کائونسلر کی فہرست سینٹرمیں موجود ہوگی۔ متاثرین سینٹر سے پولیس، سماجی ادارے، سماجی کارکن ، اسپتال، رشتے دار، دوست اور دیگر لوگوں سے رابطہ کرسکیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK