Inquilab Logo Happiest Places to Work

پنجاب کے فتح گڑھ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ایک اور دل چھو لینے والا واقعہ

Updated: December 26, 2025, 11:34 PM IST | Mumbai

سکھ خاتون نے ذاتی زمین مسجد کیلئے عطیہ کردی کیوں کہ یہاں کے مسلمان بھی نمازکیلئے دوسرے گائوں جاتے تھے ،تعمیراتی اخراجات کیلئے برادران ِوطن آگئے آئے

Harjinder Kaur and local Sikhs handing over the plaque to the Shahi Imam
ہرجندر کور اور مقامی سکھ افراد شاہی امام کو تختی سونپتے ہوئے

ملک میں اگر ایک جانب بھگوا عناصر نفرت پھیلانے میں لگے ہیں تو صوبہ پنجاب محبت، پیار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے نئی تاریخ مرتب کررہا ہے۔ تازہ واقعہ ضلع فتح گڑھ صاحب کے جکھوالی گاؤں کا ہے جہاں ایک ۷۵؍ سالہ سکھ خاتون راجندر کور نے اپنی خریدی ہوئی زمین مسجد کے لئے وقف کردی۔ انہیں یہ گوارا نہیں تھا کہ ان کے گاؤں کے مسلم بھائی اب بھی نماز ادا کرنے کیلئے دوسرے گاؤں جائیں۔  راجندر کور کے اس عمل کی چہار جانب سے ستائش کی جارہی ہے۔ اس زمین پر شاہی امام پنجاب اور دیگر ذمہ دار شخصیات کی موجودگی میں بنیاد رکھی جاچکی ہے اور چند ماہ بعد مسجد کی تعمیر بھی مکمل ہونے کی امید ہے۔ سکھ خاتون کی وقف کردہ زمین تقریباً ۱۴؍ سو اسکوائر فٹ ہے جبکہ گاؤں میں تقریبا ً ۱۰۰؍مسلم خاندان آباد ہیں۔
  موضع جکھوالی میں پہلے سے گردوارہ اور شیومندر ہے مگر مسجد نہیں تھی ،اس کمی کو سکھ خاتون نے اپنے حسن عمل سے پورا کردیا۔یاد رہے کہ اس سے قبل اسی طرح کی شاندار مثال اس وقت دیکھنے کو ملی تھی جب ضلع مالیر کوٹلہ تحصیل روہیرہ کے موضع عمر پورہ میں سابق سکھ سرپنچ راجندر سنگھ نونی اور ان کے بھائی کے ذریعے مسجد کے لئے زمین عطیہ کی گئی تھی۔ اس پر شاندار مدینہ مسجد کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے اور ۷؍ دسمبر کو ایک پروقار تقریب میں اس مسجد کا افتتاح کیا گیا تھا۔ اس کی تفصیلات انقلاب نے اپنی الگ الگ اشاعتوں میں شامل کی تھیں۔
 راجندر کور کے ذریعے مسجد کے لئے جگہ دینے کے تعلق سے شاہی امام مولانا محمد عثمان لدھیانوی نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تعلق سے پنجاب منفرد شناخت رکھتا ہے ۔ یہاں مسلمان، سکھوں اور دیگر برادران وطن کے ساتھ پورا پورا تعاون کرتے ہیں اور وہی طریقہ سکھ اور دیگر وطنی بھائیوں کا مسلمانوں کے تعلق سے ہے۔ مولانا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہاں کے رہنے والے شیروشکر ہوکر رہتے ہیں اور جب تک کسی بھی گاؤں میں تمام مذاہب کی عبادت گاہ اور دھارمک استھل نہ ہوں ، وہ گاؤں ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ مولانا نے مزید بتایا کہ جلد ہی مسلمانوں کی جانب سے بھی ضلع موہالی میں اسی طرح کے حسن عمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK