جرمنی کی قومی فضائی کمپنی لفتھانسا کے پائلٹ۱۲؍ مارچ بروز جمعرات سے۴۸؍ گھنٹوں کی ہڑتال پر جائیں گے، پینشن اور کام کے حالات سے متعلق انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 5:06 PM IST | Berlin
جرمنی کی قومی فضائی کمپنی لفتھانسا کے پائلٹ۱۲؍ مارچ بروز جمعرات سے۴۸؍ گھنٹوں کی ہڑتال پر جائیں گے، پینشن اور کام کے حالات سے متعلق انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
جرمنی کی قومی فضائی کمپنی لفتھانسا کے پائلٹ۱۲؍ مارچ بروز جمعرات سے۴۸؍ گھنٹوں کی ہڑتال پر جائیں گے۔ یہ اعلان پائلٹس کی یونین ویری نیگنگ کوک پٹ (وی سی) نے منگل کو کیا۔ پینشن اور کام کے حالات سے متعلق انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔یونین کے مطابق ہڑتال مقامی وقت کے مطابق۱۲؍ مارچ رات۱۲؍ بجکر ایک منٹ سے (23:01 GMT) شروع ہو کر۱۳؍ مارچ رات۱۱؍ بج کر ۵۹؍ منٹ تک جاری رہے گی۔ لفتھانسا کارگو اور علاقائی ذیلی کمپنی سٹی لائن کے پائلٹ بھی اس ہڑتال میں شامل ہوں گے۔یونین نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی صورت حال اور انسانی بنیادوں پر کچھ ممالک کی پروازیں ہڑتال سے مستثنیٰ رہیں گی۔ ان میں مصر، آذربائیجان، بحرین، عراق، اسرائیل، یمن، اردن، قطر، کویت، لبنان، عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ کا اثر: حیدرآباد کے آئی ٹی کوریڈور ہاسٹلس میں گیس کی قلت، مینومیں بڑی کٹوتی
وی سی کے صدر اینڈریاس پنیرو کا کہنا تھا کہ یونین کشیدگی بڑھانے کے حق میں نہیں تھی لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس تجویز پیش نہ کرنے پر یہ اقدام کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی صرف مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہی ہے لیکن پنشن اسکیم میں حقیقی بہتری پر بات نہیں کرنا چاہتی۔یونین کے نمائندے آرنے کارسٹنس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی سات نشستیں اور ثالثی کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک لفتھانسا قابلِ مذاکرات تجویز پیش نہیں کرتی، بات چیت دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔لوفتھانسا کے سی ای او کارسٹن سپوہر کا موقف ہے کہ پائلٹس کی ترجیحات پنشن کے بجائے کیریئر کے مواقع پر مرکوز ہیں۔ تاہم یونین کا الزام ہے کہ کمپنی سٹی ایئرلائنز اور ڈسکور جیسی نئی ذیلی کمپنیاں بنا کر کم مراعات پر پرانے ملازمین پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ۱۲؍ فروری کو۲۴؍ گھنٹے کی ہڑتال کے دوران۸۰۰؍ سے زائد پروازیں منسوخ کرنی پڑی تھیں جس سے ایک لاکھ مسافر متاثر ہوئے تھے۔ اب۴۸؍ گھنٹے کی اس ہڑتال سے خاص طور پر جرمنی سے روانہ ہونے والی پروازوں میں بڑے پیمانے پر خلل پڑنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے: پاسدارانِ انقلاب
پائلٹس کے مطالبات:
ویری نیگنگ کوک پٹ۵۰۰۰؍ پائلٹس کے لفتھانسا پنشن پلان میں کمپنی کے حصے میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے۔یونین کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور کمپنی کی کٹوتیوں نے پائلٹس کی ریٹائرمنٹ سیکیورٹی کو کمزور کیا ہے۔ یونین سٹی ایئرلائنز اور ڈسکور جیسی کم اجرت والی ذیلی کمپنیوں میں کام منتقل کرنے کی پالیسی کی بھی مخالفت کر رہی ہے اور خبردار کیا ہے کہ تنظیم نو کے منصوبوں سے سٹی لائن میں۸۰۰؍ ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔