تاپسی پنو نے شاہ رخ خان، اکشے کمار اور امیتابھ بچن کے ساتھ اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا ہے جن کے ارد گرد اتنے لوگ نہیں ہوتے جتنا عام طور پر کہا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 5:10 PM IST | Mumbai
تاپسی پنو نے شاہ رخ خان، اکشے کمار اور امیتابھ بچن کے ساتھ اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا ہے جن کے ارد گرد اتنے لوگ نہیں ہوتے جتنا عام طور پر کہا جاتا ہے۔
تاپسی پنو نے بالی ووڈ ستاروں کے ’’مصاحبین‘‘ پر جاری بحث پر ردِعمل ظاہر کرتےہوئے کہا ہے کہ ہر اداکار اپنے ساتھ غیر ضروری طور پر بڑی ٹیم نہیں لاتا۔ ان کے مطابق کچھ بڑے ستاروں کے بارے میں یہ تصور مبالغہ آمیز ہے کہ وہ ہمیشہ بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ سیٹ پر آتے ہیں۔ اداکارہ نے شاہ رخ خان، اکشے کمار اور امیتابھ بچن کے ساتھ اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود ایسے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا ہے جن کے ارد گرد اتنے لوگ نہیں ہوتے جتنا عام طور پر کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آر رحمان کے فرقہ وارانہ تعصب کے بیان پر سلیم مرچنٹ کا ردعمل
بالی ووڈ میں اداکاروں کے ساتھ آنے والے بڑے ’’مصاحبین‘‘ اور اس سے بڑھنے والی پروڈکشن لاگت پر بحث گزشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔ متعدد فلم ساز اور پروڈیوسر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ بعض ستارے اپنے ساتھ غیر ضروری طور پر بہت زیادہ لوگوں کو سیٹ پر لاتے ہیں جس سے فلم کی مجموعی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس معاملے پر اب اداکارہ تاپسی پنو نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس موضوع پر جاری بحث میں کئی باتیں مبالغہ آمیز بھی ہیں اور ہر اداکار کے بارے میں ایک ہی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ بالی ووڈ ہنگامہ کو دیے گئے انٹرویو میں تاپسی پنو نے بتایا کہ وہ مختلف انٹرویوز میں یہ سنتی رہی ہیں کہ پروڈیوسرز شکایت کرتے ہیں کہ ستاروں کے ساتھ آنے والے لوگوں کی وجہ سے پروڈکشن کی لاگت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس بحث میں اکثر کہا جاتا ہے کہ بڑے اداکار جہاں بھی جاتے ہیں ان کے ساتھ چار یا پانچ لوگ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’لو اینڈ وار‘‘ کی دوبارہ شوٹنگ سے ریلیز مؤخر، بجٹ میں بھی اضافہ
تاپسی نے تاہم اس خیال سے مکمل اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ہر اسٹار کے ساتھ نہیں ہوتا۔‘‘ ان کے مطابق انہوں نے انڈسٹری کے چند بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا ہے اور ان کا تجربہ اس تصور سے مختلف رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ شاہ رخ خان کے ساتھ کام کر رہی تھیں تو ان کے ارد گرد غیر معمولی تعداد میں لوگ موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ ہر بڑے اداکار کے ساتھ ایک بہت بڑا گروپ لازمی طور پر ہوتا ہے۔
تاپسی پنو نے مزید کہا کہ ’’اگرچہ کچھ اداکار ایسے ہیں جن کے ساتھ بڑی ٹیم موجود ہوتی ہے، لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ ان کے مطابق جو لوگ انٹرویوز میں اس مسئلے پر شکایت کرتے ہیں وہی پروڈیوسرز اکثر انہی اداکاروں کو اپنی فلموں میں سائن کرتے ہیں جن کے ساتھ بڑی ٹیمیں ہوتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اداکار کی ٹیم بہت بڑی ہے اور اس سے پروڈکشن پر مالی دباؤ پڑتا ہے تو فلم سازوں کو چاہیے کہ وہ ایسے فیصلے کرنے سے پہلے اس پہلو پر غور کریں۔ ان کے مطابق صرف انٹرویوز میں اس مسئلے کی شکایت کرنے کے بجائے عملی طور پر بھی تبدیلی لانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوجوان اداکاروں میں کام کے تئیں سنجیدگی کم ہے: آصف شیخ
تاپسی نے سوال اٹھایا کہ جب پروڈیوسرز خود انہی اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو پھر بعد میں اس صورتحال پر شکایت کیوں کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس تضاد کو سمجھنا ضروری ہے کہ لوگ انٹرویوز میں کیا کہتے ہیں اور عملی طور پر کیا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس موضوع پر اس سے قبل کئی معروف فلم ساز بھی اپنی رائے دے چکے ہیں۔ انوراگ کشیپ، کرن جوہر، شوجیت سرکار اور راجیو مسند جیسے ناموں نے بھی بالی ووڈ میں بڑھتے ہوئے پروڈکشن اخراجات اور اداکاروں کے ’’مصاحبین‘‘ پر تنقید کی ہے۔
دوسری جانب کچھ اداکاروں نے بھی اس بحث میں حصہ لیا ہے۔ ورون دھون، کریتی سینن، جان ابراہم اور جیکی شراف جیسے اداکاروں نے کہا ہے کہ اگرچہ ایک بہت بڑی ٹیم کی ہمیشہ ضرورت نہیں ہوتی، لیکن بعض حالات میں اداکاروں کے ارد گرد موجود لوگوں کا ہونا کام کے لیے ضروری بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بحث اس وقت مزید اہم ہو گئی ہے جب بالی ووڈ کی کئی فلمیں بڑھتے ہوئے بجٹ اور کمزور باکس آفس کارکردگی کے باعث مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ فلمی حلقوں میں اب اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ پروڈکشن اخراجات کو متوازن رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔