• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راتوں رات ایک اور جج کا تبادلہ کردیا گیا

Updated: January 21, 2026, 10:16 PM IST | Abdullah Rashid

مسلم نوجوانوں پر فائرنگ کےذمہ دار سنبھل کےپولیس افسر انوج چودھری کیخلاف ایف آئی آر کا حکم دیا تھا ، آج سماعت تھی لیکن اس سے قبل ہی ٹرانسفر کردیا گیا، اکھلیش یادو کی سپرپم کورٹ سےاز خود نوٹس کی اپیل کی،جامع مسجد کاسروےکرانے والے آدتیہ سنگھ کو سی جے ایم بنایا گیا

Lawyers protesting outside the Sambhal court.
سنبھل کی عدالت کے باہر وکیل احتجاج کرتے ہوئے۔

سنبھل تشدد معاملہ میں مسلم نوجوانوں پر فائرنگ کا حکم دینے والے سابق سرکل افسر انوج چودھری سمیت ۱۲؍ پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دینے والے چندوسی کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ( سی جے ایم) وبھانشو سدھیر کا یوگی حکومت نے  راتوںرات  تبادلہ کردیا۔ مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری ہونے کے بعد ہی وہاں پر تعینات پولیس کپتان نے کیس درج کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ اسی معاملہ کی آج ( جمعرات) کو سماعت تھی لیکن اس سے قبل ہی سی جے ایم کا تبادلہ کردیا گیا۔ ساتھ ہی جامع مسجد کا سروے کرانے کا حکم دینے والے سابق سی جے ایم آدتیہ سنگھ کو دوبارہ سی جے ایم سنبھل کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ سی جے ایم کے تبادلے  پر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نےسپریم کورٹ  اور ہائی کو رٹ دونوں  سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔سی جے ایم کے تبادلے پر جاری ہنگامے پر حکومت کا کہنا ہے کہ تبادلہ روٹین کے تحت کیا گیا ہے  ۔  
 واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ شب عدلیہ کے۱۴؍ افسران کا تبادلہ کیا ہے جس میں سنبھل میں تعینات سی جے ایم وبھانشو سدھیر کو سی جے ایم کے عہدے سے ہٹا کر سلطانپور ضلع کا   سینئرڈویژن جج  بنا دیا گیا ہے ،اس عہدے کا شمارسی جے ایم  عہدہ سے کم سمجھا جاتا ہے ۔ عدلیہ کے افسران کے تبادلےکوئی نئی بات نہیں  ہیں لیکن سنبھل کے سی جے ایم  کے تبادلے نے اترپردیش میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے ۔سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے ۹؍ جنوری کو سنبھل تشدد میں زخمی مسلم شخص کی درخواست پرخاطی پولیس افسران جس میں سرکل افسر انوج چودھری بھی شامل ہیں، کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا ۔ لیکن عدالت کے اس واضح حکم کے بعد بھی سنبھل کے پولیس کپتان نےمقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا ،  اب اس معاملہ کی ۲۲ جنوری ( یعنی آج ) سماعت ہونے والی تھی۔ سنبھل تشدد کے متاثرین بے صبری سے سماعت کا انتظار کر رہے تھے کہ منگل کی دیر رات میں اطلاع ملی کہ سی جے ایم کا تبادلہ کردیا گیا ہے ۔ جس پر دیر رات ہی سیاست شروع ہو گئی تھی۔  سماج وادی پارٹی نے اس معاملے میں یوگی حکومت پر سخت تنقیدیں کیں۔ 
 اس دوران سنبھل کی عدالت کے باہر وکیلوں نے اس تبادلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یوگی سرکار مخالف نعرے لگائے اور تبادلے کو رد کرنے کا مطالبہ کیا۔ وکیلوں کا کہنا تھا کہ ایک ایماندار جج کو  انصاف کرنے کی سزا نہیں دی جانی چاہئے ورنہ ملک سے انصاف کا نام و نشان مٹ جائے گا۔  وکیلوں نے کافی دیر تک عدالت کے احاطے میں احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK