اے آئی سمٹ احتجاج کے معاملے میںکانگریس کے ۳؍ورکروںکو گرفتار کرنے پہنچی دہلی پولیس کی ٹیم پر غیر مجاز کارروائی کا الزام۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 7:04 PM IST | Shimla
اے آئی سمٹ احتجاج کے معاملے میںکانگریس کے ۳؍ورکروںکو گرفتار کرنے پہنچی دہلی پولیس کی ٹیم پر غیر مجاز کارروائی کا الزام۔
یہاں بدھ کے روز دہلی پولیس کی ایک ٹیم کو ہماچل پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ دہلی پولیس کی ٹیم پر الزام ہے کہ اس نے روہڑو سے انڈین یوتھ کانگریس کے ۳؍ کارکنوں کو مبینہ طور پر بغیر مناسب قانونی طریقہ کار اپنائے گرفتار کرلیا۔ان ورکروں پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ حراست میں لیے گئے دہلی پولیس کے اہلکاروں کو شملہ کے چکّر علاقے کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا ہے ۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہماچل پولیس کے ایک سینئر افسر نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا’’دہلی پولیس نے شملہ کے روہڑو علاقے سے ۳؍ افراد کو مناسب طریقہ کار اختیار کیے بغیر گرفتار کیا۔ ریاستی پولیس نے دہلی پولیس اہلکاروں اور ۳؍ گرفتار نوجوانوں کو سولن کے کنڈاگھاٹ علاقے کے قریب روکا۔ سبھی کو شملہ کی ضلعی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ابھی تک دہلی پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ چمپئی سورین کے پوتے کی پر اسرار موت
ذرائع کے مطابق، شملہ پولیس نے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ۲۔ ایکانش کپل کی عدالت میں ایک نجی شکایت دائر کی ہے، جس میں روہڑو، ضلع شملہ سے یوتھ کانگریس کارکنوں کی دہلی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے واقعات کی ترتیب بیان کی گئی ہے۔ عدالت نے ابھی تک اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی پولیس کی تحویل میں لیے گئے یوتھ کانگریس کارکن ہماچل پردیش کے رہائشی نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ کو پولیس کے مطابق، انڈین یوتھ کانگریس کے چار کارکنوں کو بھارت منڈپم میں منعقدہ سمٹ کے مقام پر سیکیورٹی میں مبینہ خلاف ورزی اور ملک مخالف نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پیر کو پولیس نے مدھیہ پردیش کے گوالیار سے ایک اور کارکن کی گرفتاری کا اعلان کیا۔
نئی دہلی ضلع کی ایک خصوصی ٹیم باقی ملزمان کی گرفتاری کیلئے کام کر رہی ہے اور این سی آر سمیت دیگر ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس کے مطابق کچھ ملزمین کی شناخت ہو چکی ہے۔ اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ گرفتار ملزمین میں سے ایک کی گاڑی سے احتجاج میں استعمال ہونے والی ٹی شرٹس اور پوسٹرز برآمد کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مظفر نگر فساد کے ۳۲؍ ملزمین ناکافی ثبوت کی بنا پر بری
اتوار کو دہلی پولیس کی ایک ٹیم ہماچل پردیش گئی تھی تاکہ یہ جانچ سکے کہ آیا مذکورہ افراد اے آئی سمٹ میں احتجاج سے قبل وہاں جمع ہوئے تھے یا نہیں۔ منگل کے روز دہلی کی ایک عدالت نے انڈیا یوتھ کانگریس کے قومی صدر اُدے بھانو چِب کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے احتجاج کے معاملے میں چار روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔ چِب کو دیے گئے گرفتاری کے اسباب میں دہلی پولیس نے انہیں واقعے کا مرکزی سازشی اور ماسٹر مائنڈ” قرار دیا۔
یہ واقعہ جمعہ کو دوپہر۳۰:۱۲؍ بجے پیش آیا، جب ۶؍سے ۸؍ افراد جیکٹس اور سویٹر پہنے مقام کے ہال نمبر۷؍ میں داخل ہوئے۔ ملزمین مبینہ طور پر ایسی ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے جن پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر بنی ہوئی تھی، جنہیں انہوں نے جیکٹس اور سویٹر کے نیچے چھپا رکھا تھا۔ اے آئی ایکسپو ہال میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی جیکٹس اور سویٹر اتار دیے، نعرے بازی کی اور پھر بغیر شرٹ کے احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اندور میں آلودہ پانی کے سبب ایک اور شخص کی موت ، عوام میں ناراضگی
(۱) اے آئی سمٹ میں احتجاج اور مقدمہ
۲۰؍ فروری ۲۰۲۶ء کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء کے دوران انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) کے کارکنوں نے ’’شرٹ لیس احتجاج‘‘ کیا، جس پر دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور بہت سارے کارکنوں کو گرفتار کیا۔ اس احتجاج کے الزام میں آئی وائی سیکے صدر اُدے بھانو چِب کو بھی پولیس نے گرفتار کر کے چار دن کی ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔
(۲) بدھ صبح – روہڑو میں گرفتاری
بدھ (۲۵؍ فروری)صبح تقریباً ساڑھے ۵؍ بجے کے قریب دہلی پولیس کی ایک خصوصی ٹیم نے شملہ ضلع کے روہڑو علاقے میں ایک رہائشی ہوٹل/ریسٹ ہاؤس سے تین آئی وائی سی کارکن ، سوربھ، عر باض اور سدھارتھ ، کو گرفتار کیا۔ ہماچل پولیس کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی میں قانونی ضابطے اور مقامی پولیس کو معلومات نہیں دی گئیں۔
(۳) ہماچل پولیس کی مداخلت اور حراست
روہڑو سے واپس جاتے ہوئے، ہماچل پردیش پولیس نے دہلی پولیس ٹیم کو دھرامپور سولن کے قریب روکا اور تینوں گرفتار نوجوانوں کو شملہ واپس لایا۔ بعد میں شملہ پولیس نے اغواء اور دیگر الزامات کے تحت دہلی پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
(۴) سڑک پر جھڑپ اور عدالت میں پیشی
دہلی پولیس ٹیم اور گرفتار کارکنوں کو شملہ ضلع عدالت چککر میں پیش کیا گیا۔ دونوں پولیس فورسیز کے درمیان سڑک پر متعدد مرتبہ کشیدگی اور روکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس میں دہلی پولیس کے گاڑی/ڈی وی آر سمیت سامان پر بھی بحث ہوئی۔ شملہ کی عدالت نے دہلی پولیس کو ٹرانزٹ ریمانڈ فراہم کیا جس کے بعد ٹیم نے تین کارکنوں کو دہلی لے جانے کی اجازت حاصل کی۔
(۵) دونوں ریاستوں کا مؤقف اور سیاسی ردعمل
ہماچل پولیس کا مؤقف ہے کہ دہلی پولیس نے بغیر مقامی اجازت اور قانونی طریقہ کار کے کارکنوں کو گرفتار کیا، جب کہ دہلی پولیس دعویٰ کرتی ہے کہ ان کے پاس ریمانڈ تھا اور وہ قانونی کارروائی کے لیے کارکنوں کو منتقل کر رہے تھے۔ اس واقعہ نے سیاسی حلقوں میں بھی بحث کو فروغ دیا ہے اور مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔