Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہماچل میں ریئل اسٹیٹ کے لیے پریمیم ایف اے آر اور ای وی چارجنگ پوائنٹس لازمی

Updated: March 09, 2026, 4:23 PM IST | Shimla

ہماچل پردیش میں ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ (ٹی سی پی) کے محکمے نےہماچل پردیش ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ (اٹھارہویں ترمیم) رولز۲۰۲۶ء کے ذریعے ریاست میں ریئل اسٹیٹ اور شہری تعمیراتی پروجیکٹوں کے لیے پریمیم فلور ایریا ریشو (ایف اے آر) کا تصور متعارف کرایا ہے۔

Himachal Pradesh Real Estate Office.Photo:INN
ہماچل پردیش کا ریئل اسٹیٹ دفتر۔ تصویر:آئی این این

ہماچل پردیش میں ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ (ٹی سی پی) کے محکمے نےہماچل پردیش ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ (اٹھارہویں ترمیم) رولز۲۰۲۶ء کے ذریعے ریاست میں ریئل اسٹیٹ اور شہری تعمیراتی پروجیکٹوں کے لیے پریمیم فلور ایریا ریشو (ایف اے آر) کا تصور متعارف کرایا ہے۔
 ۲۷؍ فروری ۲۰۲۶ءکو جاری دو نوٹیفیکیشنز کو ریاستی گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے، جن میں منصوبہ بند شہری ترقی اور پائیدار تعمیرات کے مقصد سے نئے قوانین لائے گئے ہیں۔
ترمیم شدہ قوانین کے تحت اب ڈیولپرز مقررہ فیس کی ادائیگی کر کے عام طور پر منظور شدہ ایف اے آرسے زیادہ اضافی تعمیراتی رقبہ خرید سکیں گے۔ پریمیم ایف اے آر سے مراد حکومت کو طے شدہ رقم کی ادائیگی پر معیاری ایف اے آر کے اوپر دی گئی اضافی منظور شدہ فلور ایریا ہے۔ یہ نظام شہری بنیادی ڈھانچے کے لیے ریونیو جنریٹ کرنے کے ساتھ ساتھ مخصوص علاقوں میں زیادہ کثافت والی تعمیرات کو ممکن بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ اور شروَری کی فلم ’’اَلفا‘‘ ایک بار پھر مؤخر، اب جولائی میں ریلیز ہوگی

نوٹیفیکیشن کے مطابق  ٹی سی پی  محکمے نے پریمیم ایف اے آر سے فائدہ اٹھانے کے لیے مرحلہ وار فیس کا ڈھانچہ مقرر کیا ہے۔ اس کے تحت ڈیولپرز ۳؍ہزار روپے فی مربع میٹر ادا کر کے ۲۵ء۰؍ تک اضافی ایف اے آر حاصل کر سکتے ہیں۔  ۲۵ء۰؍ اور ۵۰ء۰؍ کے درمیان ایف اے آر کے لیے فیس ۵؍ہزار روپے فی مربع میٹر طے کی گئی ہے جبکہ  ۵۰ء۰؍ اور ۷۵ء۰؍ کے درمیان اضافی ایف اے آر کی لاگت ۷؍ہزار روپے فی مربع میٹر ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ: ٹیم انڈیا کے چیمپئن بننے کے سفر میں یہ میچ ’ٹرننگ پوائنٹ‘ ثابت ہوا

افسران نے واضح کیا کہ یہ سہولت صرف ان پروجیکٹوں پر لاگو ہوگی جن کی تعمیر ابھی شروع ہونی ہے یا جو فی الحال زیرِ تعمیر ہیں۔ وہ ریئل اسٹیٹ پروجیکٹ جنہیں پہلے ہی کمپلیشن سرٹیفکیٹ  مل چکا ہے، وہ نئے قوانین کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK