کیا اخلاقیات صرف شیوسینا اور این سی پی کیلئےہیں،رافیل پر کون استعفیٰ دیگا؟

Updated: April 08, 2021, 12:40 PM IST | Agency | Mumbai

شیوسینا کا چبھتا ہوا سوال، سامنا نے اداریہ میں انل دیشمکھ کے خلاف جانچ اور یدی یورپا کو سپریم کورٹ سے راحت پر بھی سوال اٹھایا

Sanjay Raut is the editor of Marathi Saamna.Picture:INN
سنجے راؤت مراٹھی سامنا کےایڈیٹر ہیں۔تصویر :آئی این این

شیوسینا نے بدھ کو الزام لگایا کہ مودی سرکار قوانین کو اور مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کو اپنے مخالفین کو قابو میں رکھنے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ پارٹی کے ترجمان سامنا نے اپنے ایک اداریہ میں مستعفی  وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے خلاف جانچ  کےہائی کورٹ کے حکم اور  سپریم کورٹ سے یدی یورپا کے خلاف جان پر روک لگانے کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’انل دیشمکھ اور کرناٹک کے وزیراعلیٰ کے تعلق سے الگ الگ فیصلے کیوں؟‘‘ اداریہ میں اخلاقی بنیاد پر استعفے کے بی جےپی کے مطالبے پر طنز کرتے ہوئے رافیل طیارہ سودے کے تعلق سے فرانسیسی میڈیا کے انکشافات کا حوالہ دیا۔  واضح رہے کہ فرانسیسی میڈیا نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ رافیل طیارہ سودے کیلئے  فرانس کی طیارہ ساز کمپنی ڈسالٹ ایوی ایسن نے بچولیے کو ۱ء۱؍ ملین یورو بطور رشوت دیئے ہیں۔ اخبار نے سوال کیا ہے کہ اب اخلاقی بنیاد پر کسے استعفیٰ دینا چاہئے۔ 
 مراٹھی سامنا نے یہ چبھتا ہوا سوال کیا ہے کہ ’’کیا اخلاقیات صرف شیوسینا اور این سی پی کیلئے ہیں؟‘‘  اس بات پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہ سابق وزیر داخلہ پر بدعنوانی کے الزام کے تعلق سے ہائی کورٹ نے سابق پولیس کمشنر پرم بیر کی سخت سرزنش کی مگر جے شری پاٹل نامی شخص کی پٹیشن کا نوٹس لیتے ہوئے  جانچ کا حکم دے دیا۔ اخبار نے الزام لگایا ہے کہ ’’قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے مگر اب یہ واضح  ہوتا جارہاہے کہ قانون اور مرکزی ایجنسیوں کو سیاسی مخالفین کو کنارے لگانے کیلئے استعمال کیاجارہاہے۔‘‘ شیوسینا کے ترجمان  اخبار کے مطابق’’یہ باعث تشویش ہے کہ مہاراشٹر حکومت کو اس طرح کمزور کرنے کیلئے آئینی عہدوں پر فائز  شخصیات کواستعمال کیا جارہاہے۔  اخبار نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر میں اپوزیشن  بی جےپی  اس طرح کے بیان جاری کرتی ہے کہ استعفیٰ دینے کا اگلا نمبر کس وزیر کا ہے۔ ’’یہ نہیں کہہ سکتے اگرانہیں اعتماد نہ ہوکہ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں ان کیلئے کام کررہی ہیں۔ یہ ریاست مہاراشٹر کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔‘‘ مراٹھی سامنا جس کے ایڈیٹر سنجے راؤت ہیں، نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ  اپوزیشن پہلے بھی الزام تراشیاں کرتا تھا اور استعفے مانگتا تھا مگر تب  ایسی زہر آلودگی اور دشمنی نہیں ہواکرتی تھی۔  یدی یورپا کے خلاف  ۱۰؍ سال پرانے بدعنوانی کے معاملے میں جانچ  پر سپریم کورٹ کی روک اور بامبے ہائی کورٹ کے انل دیشمکھ کے خلاف ۱۵؍ دن میں جانچ کے حکم کا موازنہ کرتے ہوئے اخبار نے سوال کیا ہے کہ ’’انل دیشمکھ اور کرناٹ کے وزیراعلیٰ کے تعلق سے الگ الگ فیصلے کیوں؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK