• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ارجنٹائنا نے ۳؍ لاکھ ۵۰ ؍ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری پر شہریت دینے کا منصوبہ پیش کردیا

Updated: October 03, 2026, 7:23 PM IST | New Delhi

ارجنٹائنا کی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک کی شہریت دینے کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی ایک نئے پروگرام کا اعلان کردیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غیر ملکی افراد ۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار امریکی ڈالرکی ناقابلِ واپسی رقم قومی خزانے میں جمع کرا کے ارجنٹائنا کی شہریت کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

Argentina.Photo:INN
ارجنٹائنا۔ تصویر:آئی این این

ارجنٹائنا کی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک کی شہریت دینے کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی ایک نئے پروگرام کا اعلان کردیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غیر ملکی افراد  ۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار امریکی ڈالرکی ناقابلِ واپسی رقم قومی خزانے میں جمع کرا کے ارجنٹائنا کی شہریت کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ حکومت کے مطابق یہ پروگرام  ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی  میں درخواستیں وصول کرنے کے لیے فعال ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:انتم پنگھال نے خواتین کے ۵۳؍کلوگرام کشتی مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیت لیا

یہ اعلان ارجنٹائنا کے وزیرِ معیشت  لوئس کاپوتو  اور کابینہ کے سربراہ  ڈیگو سانتیلی  نے پیرس میں منعقدہ ’’ارجنٹائنا ویک‘‘ کے دوران کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بیرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنا، عالمی سطح پر ارجنٹائن کے ساتھ اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا اور ملک میں سرمایہ لانے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
 نئے پروگرام میں غیر ملکی درخواست گزاروں کے لیے بنیادی طور پر دو راستے رکھے گئے ہیں۔ پہلے راستے کے تحت درخواست گزار کو  ۳ ؍لاکھ ۵۰؍ ہزار ڈالر قومی خزانے میں براہِ راست اور ناقابلِ واپسی رقم  کے طور پر جمع کرانے ہوں گے۔ دوسرے راستے میں ۸؍ لاکھ ڈالر مالیت کے ایک خصوصی سرکاری بانڈ  میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جسے حکومت نے اسی پروگرام کے لیے متعارف کرایا ہے۔
حکومت کے مطابق اس پروگرام سے حاصل ہونے والی رقم ملک کی مالی اور اقتصادی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ارجنٹائن کی حکومت غیر ملکی سرمایہ اور ڈالر حاصل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔ اس پروگرام میں مرکزی درخواست گزار کے اہلِ خانہ کے لیے بھی شہریت حاصل کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق شریکِ حیات اور  ۱۸؍ سے ۲۵؍ سال  کی عمر کے غیر شادی شدہ اور بے اولاد بچے، مقررہ شرائط پوری کرنے کے بعد  ایک لاکھ ڈالر  کی رقم کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ  ۱۸ ؍سال سے کم عمر بچوں  کے لیے یہ رقم ۲۵؍ ہزار ڈالر  مقرر کی گئی ہے۔
اس حساب سے چار افراد پر مشتمل ایک خاندان، جس میں مرکزی درخواست گزار، اس کا شریکِ حیات اور دو نابالغ بچے شامل ہوں، قومی خزانے میں مجموعی طور پر ۵؍ لاکھ ڈالر  کی ناقابلِ واپسی رقم جمع کرا کے اس پروگرام کے تحت شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ ارجنٹائنا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ صرف مقررہ رقم جمع کرانے سے شہریت خودکار طور پر نہیں ملے گی۔ درخواست گزاروں کو ایک سخت جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا، جس میں شناخت کی تصدیق، رقم کے جائز اور قابلِ سراغ ذریعہ کی جانچ، مالی اور اثاثہ جاتی ریکارڈ کا جائزہ، مجرمانہ پس منظر، ساکھ اور سابقہ سفری و ہجرتی ریکارڈ شامل ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:’’دِرِیشیم ۳‘‘ کی شاندار اوپننگ، پہلے دن دنیا بھر میں ۹۵؍ کروڑ روپے کمائے

حکومت کے مطابق درخواستوں کی جانچ میں مختلف سرکاری ادارے بھی شامل ہوں گے، جن میں مالیاتی معلومات اور غیر قانونی رقم کی روک تھام سے متعلق ادارے، سلامتی کے حکام اور وزارتِ داخلہ شامل ہیں۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارہ اپنی سفارش قومی محکمہ ہجرت کو بھیجے گا، جو درخواست منظور یا مسترد کرنے کا حتمی انتظامی فیصلہ کرے گا۔
معتبر رپورٹس کے مطابق ارجنٹائن ا جنوبی امریکا کا پہلا ملک** بننے جا رہا ہے جو براہِ راست سرمایہ کاری کے بدلے شہریت کا باقاعدہ پروگرام متعارف کرائے گا۔ دنیا کے بعض دوسرے ممالک، خصوصاً کیریبین خطے کے چند چھوٹے ممالک، پہلے ہی سرمایہ کاری کے عوض شہریت کے پروگرام چلا رہے ہیں۔ ارجنٹائنا کی حکومت کا خیال ہے کہ ملک کا حجم، معیشت اور عالمی سطح پر اس کی شناخت اسے ایسے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنا سکتی ہے جو دوسری شہریت یا اضافی پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ بڑے ملک میں کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کررہے ہیں۔ حکومت کے مشاورتی ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس پروگرام سے آنے والے برسوں میں ارجنٹائنا کو تقریباً ۲ء۵ ارب ڈالر  تک حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ رقم ایسے وقت میں اہم سمجھی جارہی ہے جب ملک کو آنے والے برسوں میں بڑے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK