• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کامیابی فوراً نہیں ملتی، کبھی کبھی صبر کے ساتھ انتظار بھی کرنا پڑتا ہے‘‘

Updated: September 13, 2026, 2:01 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹیلی ویژن، تھیٹر اور فلم اداکار اور ماڈل ارحان خان کا کہنا ہےکہ آپ چاہے جتنا بھی کام کرلیں، سیکھنے کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے، ہر کردار آپ کو کچھ نیا سکھاتا ہے۔

Television, theater and film actor and model Arhaan Khan. Photo: INN
ٹیلی ویژن، تھیٹر اور فلم اداکار اور ماڈل ارحان خان۔ تصویر: آئی این این

ارحان ہندوستانی ٹیلی ویژن کے اداکار اور ماڈل ہیں۔ ان کا پیدائشی نام مظہر شیخ ہے۔ انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا تھا اور فیشن شوز اور مختلف ماڈلنگ پروجیکٹس میں کام کیا۔ بعد ازاں ۲۰۱۶ء میں انہوں نے ٹی وی سیریل ’’بڑھوبہو‘‘ سے اداکاری کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے رانا سنگھ اہلاوت کا کردار ادا کیا۔ ارحان خان نے ۲۰۱۷ء میں جنوبی ہند کی فلم ’’سری ولی‘‘ کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا، جس میں انہوں نے مجنوں کا کردار ادا کیا۔ وہ ’فنا‘ سمیت دیگر ٹی وی پروجیکٹس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ اگست ۲۰۲۶ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ارحان نے اپنے کریئر کے ابتدائی دنوں کی مشکلات کو اداکاری کے سفر کا اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ اداکاری میں ان کی دلچسپی کافی عرصے سے تھی۔ ۲۰۱۹ء میں ارحان خان نے مقبول رئیلیٹی شو ’بگ باس ۱۳‘میں بطور وائلڈ کارڈ کنٹیسٹنٹ شرکت کی تھی۔ اس شو میں ان کی موجودگی اور ذاتی زندگی سے متعلق معاملات نے انہیں خاصی میڈیا توجہ دلائی۔ نمائندہ انقلاب نے ارحان خان سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
سب سے پہلے یہ بتائیے کہ شوبز انڈسٹری میں آپ کا داخلہ کس طرح ہوا؟ آپ نے اپنے کریئر کا آغاز کیسے کیا؟
ج: شوبز انڈسٹری میں آنے سے پہلے میں نے اپنے کریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا تھا۔ میں نے ماڈلنگ انڈسٹری میں کافی کام کیا اور اس دوران کئی فیشن شوز کا حصہ بنا۔ اگر میں تعداد کی بات کروں تو میں تقریباً ۴۰۰ ؍سے ۵۰۰؍ فیشن شوز کر چکا ہوں۔ اس کے علاوہ پرنٹ میڈیا اور مختلف پرنٹ اشتہار کے لیے بھی کام کیا۔ اسی دوران اداکاری کی انڈسٹری سے پیشکش آنا شروع ہوئیں۔ جو کام مجھے اچھا لگا اور جس میں مجھے کچھ نیا سیکھنے کا موقع نظر آیا، میں اسے کرتا گیا۔ اس طرح ایک کام کے بعد دوسرا کام ملتا گیا۔ 
کیا فلم انڈسٹری میں آپ کا پہلے سے کوئی تعلق یا خاندانی کنکشن تھا، یا آپ نے خود ہی اپنی جگہ بنائی؟
ج: نہیں، فلم انڈسٹری میں میرا کوئی خاندانی رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی میرا کوئی ایسا شخص تھا جو مجھے انڈسٹری میں آگے لے کر آتا۔ میں نے اپنے سفر میں خود ہی آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ ماڈلنگ سے آغاز کیا، کام سیکھا، لوگوں سے ملا، آڈیشنز اور پروجیکٹس کیے اور آہستہ آہستہ اپنے لیے جگہ بنائی۔ اس لحاظ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی راہ خود بنائی۔ 
اس وقت آپ کن پروجیکٹس میں مصروف ہیں؟
ج: اس وقت میں جنوبی ہند کی ایک فلم کی شوٹنگ کر رہا تھا۔ فلم کی تقریباً ۳۰ ؍سے ۴۰؍ فیصد شوٹنگ مکمل ہوچکی ہے جبکہ باقی کام ابھی کرنا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ کچھ عرصے میں میری مصروفیات صرف اداکاری تک محدود نہیں رہیں۔ میں ایک کاروبارسے بھی وابستہ رہا ہوں، جس میں کافی وقت اور توجہ دینی پڑی۔ 
آپ نے تقریباً چار سال کا وقفہ لیا، اس دوران کہاں مصروف رہے؟
ج:’’بگ باس‘‘ کے بعد ہی کووڈ کا دور آگیا تھا۔ اس وقت میں ہندوستان میں بھی نہیں تھا اور دوسری چیزوں میں مصروف ہوگیا تھا۔ پھر وقت گزرتا گیا اور تقریباً تین سے چار سال بعد اب دوبارہ ممبئی آنا ہوا ہے۔ ممبئی واپس آنے کے بعد دوبارہ پروجیکٹس پر کام شروع ہوا اور اب میری توجہ ایک مرتبہ پھر اداکاری اور نئے کام پر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سیلینا جیٹلی نے مرحوم بیٹے شمشیر کو سالگرہ پر یاد کیا، قبر پر پھوٹ پھوٹ کر روئیں

آپ نے ماڈلنگ سے اداکاری کا سفر شروع کیا، لیکن کیا آپ نے اداکاری کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی ہے؟
ج:جی ہاں، میں نے کافی ایکٹنگ ورکشاپس کئے ہیں بلکہ آج بھی میں ورکشاپس کرتا رہتا ہوں۔ میرے خیال میں ایک اداکار کیلئے سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے تھوڑا بہت تھیٹر بھی کیا ہے۔ سوربھ سچدیوا کی ورکشاپس میں بھی شرکت کرتا رہا ہوں۔ میرے خیال میں اداکار کو ہمیشہ اپنے کرافٹ پر کام کرتے رہنا چاہیے۔ آپ چاہے جتنا بھی کام کرلیں، سیکھنے کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ ہر کردار آپ کو کچھ نیا سکھاتا ہے اور ہر ورکشاپ آپ کو اپنے اندر موجود کسی نئی چیز کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ میں خود کو مسلسل بہتر بنانے پر یقین رکھتا ہوں۔ 
آپ کے خیال میں ماڈلنگ نے اداکاری میں آپ کی کتنی مدد کی؟
ج:ماڈلنگ میرے لیے ایک طرح سے پہلی تربیت تھی۔ کیمرے کے سامنے کھڑے ہونا، اپنی باڈی لینگویج کو سمجھنا، مختلف انداز میں خود کو پیش کرنا اور کیمرے کے سامنے اعتماد کے ساتھ پرفارم کرنا، یہ سب میں نے ماڈلنگ کے دوران سیکھا۔ سیکڑوں فیشن شوز اور پرنٹ شوٹس نے مجھے کیمرے کے سامنے بہت کچھ سکھایا۔ بعد میں جب اداکاری کی طرف آیا تو یہ تجربہ میرے لیے بہت کام آیا۔ 
انڈسٹری میں نئے آنے والے اداکار کے لیےسب سے بڑا چیلنج کیا ہوتا ہے؟
ج: میرے خیال میں سب سے بڑا چیلنج اپنی جگہ بنانا ہے۔ انڈسٹری میں بہت سے باصلاحیت اور محنتی لوگ موجود ہیں، اسلئے ضروری ہے کہ آپ مسلسل خود پر کام کرتے رہیں اور صبر رکھیں۔ ہر چیز فوراً نہیں ملتی۔ کبھی کام ملتا ہے، کبھی انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن اس دوران انسان کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرتے رہنا چاہئے۔ مجھے بھی ابتدائی دور کی مشکلات نے بہت کچھ سکھایا۔ 
چار سال کے وقفے کے بعد جب آپ دوبارہ انڈسٹری میں آئے تو کیا آپ کو لگا کہ انڈسٹری بہت تبدیل ہوچکی ہے؟
ج:بالکل، انڈسٹری ہمیشہ بدل رہی ہے۔ نئے پلیٹ فارمز آرہے ہیں، کام کرنے کے طریقے تبدیل ہورہے ہیں اور لوگوں کی پسند بھی بدل رہی ہے۔ اسلئے جب آپ کچھ عرصے کیلئے دور رہتے ہیں تو واپس آکر خود کو موجودہ ماحول کے مطابق ڈھالنا ضروری ہوتا ہے۔ میں بھی یہی کوشش کر رہا ہوں کہ جو تبدیلیاں آئی ہیں، انہیں سمجھوں اور اپنے کام میں شامل کروں۔ 
کیا آپ کیلئے چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ کیمرے کے سامنے آنا مشکل تھا؟
ج: میرے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ میں اپنے کام سے وابستہ رہوں۔ وقفہ ضرور آیا، لیکن میں نے خود کو اداکاری سے مکمل طور پر دور نہیں کیا۔ میں ورکشاپس کرتا رہا اور اپنے کرافٹ پر کام کرتا رہا۔ اس لیے جب دوبارہ کام شروع کیا تو احساس ہوا کہ تجربہ کہیں نہ کہیں آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ 
آپ نے ماضی میں ’’بڑھو بہو‘‘ اور ’’سری ولی ‘‘ جیسے پروجیکٹس کیے اور پھر’’بگ باس ۱۳‘‘ کا حصہ بنے۔ ان میں سے آپ کے لیے کون سا مرحلہ سب سے زیادہ اہم رہا؟
ج:میں کسی ایک پروجیکٹ کو اپنی زندگی کا واحد ٹرننگ پوائنٹ نہیں سمجھتا۔ میرے کریئر میں مختلف پروجیکٹس نے مختلف دروازے کھولے ہیں۔ ’’سری ولی ‘‘ میرے لیے خاص تھی کیونکہ مجھے اس فلم میں مجنوں کے کردار کے لیے براہِ راست منتخب کیا گیا تھا۔ ’’بڑھو بہو‘‘ نے مجھے ٹیلی ویژن پر ایک وسیع ناظرین تک پہنچایا جبکہ  ’’بگ باس ۱۳‘‘نے لوگوں کو مجھے ایک کردار کے بجائے ایک شخص کے طور پر دیکھنے کا موقع دیا۔ 
آج آپ اپنے کریئر کے اس مرحلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج:میں سمجھتا ہوں کہ ہر تجربہ انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر پروجیکٹ آپ کے لیے بہت بڑا بریک ثابت ہو، لیکن اگر آپ تیار ہیں تو ہر موقع کو ایک نئے بریک میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ میرا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک موقع سے دوسرے موقع تک آگے بڑھتا رہوں، اپنی اداکاری کو بہتر کروں اور ایسے کردار کروں جنہیں لوگ یاد رکھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK