گستاخ وسیم رضوی کی پٹیشن خارج، جرمانہ اور سرزنش

Updated: April 13, 2021, 8:11 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

سپریم کورٹ میں شدید رُسوائی، کورٹ نے حیرت سے پوچھا کہ کیا آپ واقعی اِس پر شنوائی چاہتے ہیں، اصرار پر اسے احمقانہ اور بیہودہ قراردیکر مسترد کردیا، ۵۰؍ ہزار کا جرمانہ بھی عائد کیا

Nationwide protests against Wasim Rizvi .Picture:INN
وسیم رضوی کے خلاف ملک بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ ۔تصویر :آئی این این

 قرآن کریم کی آیات مبارکہ پر انگشت نمائی کی جرأت  اور دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں کلام پاک سے حذف کرنے کا شرانگیز مطالبہ کرنے والے وسیم رضوی کو پیر کو سپریم کورٹ میں  زبردست بے عزتی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ کورٹ نے نہ صرف اس کی پٹیشن  کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا بلکہ    ایسی پٹیشن داخل کرنے پر بطور سزا اس پر ۵۰؍ ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائدکیا۔ ماہ رمضان  جسے ماہ ِقرآن بھی کہتے ہیں، کے آغاز سے ایک روز قبل   اس فیصلے سے امت مسلمہ میں  خوشی، اطمینان اور سکون کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 
کورٹ بھی حیران، پوچھا  کیا آپ سنجیدہ ہیں؟
 کلام پاک کی   ۲۶؍ آیات مبارکہ کو حذف کرنے کا شرانگیز مطالبہ کرنے والی پٹیشن پیر کو جب  سپریم کورٹ میں  جسٹس آر ایف نریمن، بی آر گوَئی اوررشی کیش رائے کی بنچ  کے سامنے پیش ہوئی تو بنچ بھی اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ جسٹس  آر ایف نریمن جو  بنچ کی قیادت کررہے تھے، نے  پٹیشن کو خارج کرنے سے قبل حیرت کااظہار کرتے  ہوئے وسیم رضوی کے وکیل سے پوچھا کہ ’’کیا آپ  اس پٹیشن کیلئے زور دے رہے ہیں؟کیا آپ واقعی چاہتے ہیں کہ اس پر شنوائی ہو؟‘‘ ایڈوکیٹ آر کے رائے زادہ  نے  جو وسیم رضوی کی پیروی کررہے تھے، نے کورٹ کی اس باز پرس پر  جواب دیا کہ  وہ صرف مدرسوں   کے حوالے سے یہ پابندی چاہتے ہیں۔   وسیم رضوی  کے وکیل  یہ چاہتے تھے کہ قرآن کی مذکورہ آیات کو مدارس میں نہ پڑھایا جائے۔ رائے زادہ نے زور دیا کہ (نعوذ باللہ )چند آیات کا لفظی ترجمہ غیر مسلموں    کے خلاف تشدد پر اُکساتا ہے اور   مدارس   میں ان  کے پڑھانے کا مطب طلبہ کی ذہن کو خراب کرنا ہوگا۔
وسیم رضوی کے وکیل کی کورٹ میں  بیہودہ دلیلیں
 آر کے رائے زادہ نے  اس دوران مدارس اسلامیہ کے تعلق سے بھی بدزبانی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ’’میری درخواست صرف اتنی ہے کہ یہ تعلیمات غیر مسلموں کے خلاف  تشددکی وکالت کرتی ہیں، مدرسوں میں بچوں کو چھوٹی عمر سے یرغمال بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ان کا ذہن خراب نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘ وسیم رضوی کے وکیل    نے اپنے موکل کی طرف سے کورٹ کو بتایا  اوراپیل کی کہ ’’ میں نے مرکزی حکومت کو لکھا ہے کہ وہ اس ضمن میں کارروائی کرے مگر کچھ نہیں ہوا۔حکومت اور مدرسہ بورڈ کو اس ضمن میں  طلب کرکے پوچھا جانا چاہئے کہ ان آیات کے لفظی تراجم کو پڑھانے  سے  روکنے کیلئے کیا قدم اٹھائے گئےہیں۔‘‘
کورٹ نے ایک نہیں سنی
   وسیم رضوی کے وکیل اپنی اوٹ پٹانگ دلیلوں سے کورٹ کو زرہ برابر بھی مطمئن نہیں  کرسکے۔ کورٹ نے پٹیشن پر شنوائی سے انکار کرتے ہوئے اسے ’’قطعی بیہودہ‘‘ قرار دیا اور مسترد کر دیا۔ ساتھ ہی ایسی پٹیشن داخل کرنے پر ملک کی سب سے بڑی  عدالت نے وسیم رضوی  پر ۵۰؍ ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ 
پٹیشن کا خارج ہونا عین متوقع تھا
  سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی پٹیشن    سے مسلمانوں کو فطری طور پرشدید تکلیف پہنچی مگر قانونی ماہرین روز اول سےیہ سمجھا رہے تھے کہ فکرمندی کی کوئی بات نہیں، یہ پٹیشن اس لائق بھی نہیں کہ اس پر شنوائی ہو  بلکہ سپریم کورٹ اسے    پہلے مرحلے میں  ہی خارج کردیگا۔   ایسی ہی شرانگیز ی کا مظاہرہ ۱۹۸۷ء میں  چندمل چوپڑہ اور شیت لال سنگھ نے بھی کی تھی جب انہوں  نے  کلکتہ ہائی کورٹ میں پٹیشن  داخل کرکے قرآن کریم پر تشدد کی تعلیم دینے کا الزام لگایاتھا۔ کورٹ نے اس وقت بھی پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’عدالتیں قرآن پر فیصلہ نہیں  سنا سکتیں۔‘‘ وسیم رضوی کی  پٹیشن پر سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار جسٹس سہیل اعجاز صدیقی  نے بھی انقلاب سے گفتگومیں کہا تھا کہ پہلی نظر میں ہی یہ پٹیشن خار ج کر دی جائے گی اور جرمانہ بھی عائد ہوسکتاہے۔ پیر کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں  نے اسے  دوسرے شرپسندوں کے لیے سبق  قرار دیا ۔ 

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK