• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت عالمی معیشت میں سالانہ ۵۲ء۲؍ ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرسکتی ہے: رپورٹ

Updated: October 25, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai

مصنوعی ذہانت (اے آئی) موجودہ کام کے طریقوں کو خودکار اور زیادہ مؤثر بناکر دنیا بھر میں ہر سال۵۲ء۲؍ ٹریلین ڈالر کی معاشی قدر پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بڑھتے ہوئے اخراجات ان فوائد کو بڑی حد تک کم کرسکتے ہیں۔ مشاورتی کمپنی میک کنزی کی ایک نئی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔

Artificial Inteligence.Photo:INN
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی) موجودہ کام کے طریقوں کو خودکار اور زیادہ مؤثر بناکر دنیا بھر میں ہر سال۵۲ء۲؍  ٹریلین ڈالر کی معاشی قدر پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بڑھتے ہوئے اخراجات ان فوائد کو بڑی حد تک کم کرسکتے ہیں۔ مشاورتی کمپنی میک کنزی کی ایک نئی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔’دی اے آئی ویلیو کرو: دی اکنامکس آف اپلائنگ اے آئی ٹو ایگزیسٹنگ ورک‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے اور اداروں کی جانب سے حقیقت میں حاصل کیے جانے والے معاشی فوائد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو نمایاں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:شاہین آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں ۱۵۰؍ وکٹوں کا سنگِ میل عبور کرلیا

مطالعے کے مطابق،بہت سی کمپنیاں اس بات کا مناسب جائزہ لیے بغیر مصنوعی ذہانت نافذ کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں کہ آیا اس ٹیکنالوجی پر کی جانے والی سرمایہ کاری سے انہیں خاطرخواہ منافع حاصل ہورہا ہے یا نہیں۔میک کنزی کا اندازہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نفاذ کی مؤثر لاگت میں ۳۰؍ فیصد اضافہ ہونے سے سالانہ معاشی قدر میں ۸۵۰؍ ارب ڈالر تک کی کمی آسکتی ہے۔ ایسی صورت میں عالمی معیشت پر مصنوعی ذہانت کے متوقع اثرات  ۵۲ء۲؍ ٹریلین ڈالر سے گھٹ کر سالانہ ۶۷ء۱؍ ٹریلین ڈالر رہ جائیں گے۔
 رپورٹ کے مطابق، اگر امریکہ میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کی لاگت اسی تناسب سے بڑھتی ہے تو اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی سالانہ معاشی قدر ۹۶۰؍ ارب ڈالر سے کم ہوکر ۶۴۰؍ ارب ڈالر رہ سکتی ہے۔ میک کنزی نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار مستقبل کے نتائج کی حتمی پیش گوئی نہیں ہیں، بلکہ ایک ماڈل کی بنیاد پر تیار کیے گئے ممکنہ حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ۲۰۳۰ء تک اے آئی کے بنیادی ڈھانچے میں ۷؍ ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔  یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، سافٹ ویئر پلیٹ فارم اور خودکار ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:میں مختلف شہروں میں رہی ہوں، لیکن اتر پردیش کی بیٹی ہوں:شویتا ترپاٹھی

رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۲۰۳۰ء تک مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں عالمی سرمایہ کاری تقریباً۷؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس بھاری سرمایہ کاری کو معاشی طور پر سودمند ثابت کرنے کے لیے سالانہ تقریباً  ۷۶۰؍ ارب ڈالر کے منافع کی ضرورت ہوگی۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے حقیقی معاشی فائدہ حاصل کرنے کے لیے صرف ٹیکنالوجی پر خرچ کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ کمپنیوں کو اس کے استعمال سے پیداواری صلاحیت میں اضافے، کام کے معیار میں بہتری اور اخراجات میں کمی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
 میک کنزی کی رپورٹ کے مطابق، مختلف صنعتوں میں مالیاتی خدمات کے شعبے کو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سب سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ اس شعبے میں سالانہ  ۵۳۰؍ ارب ڈالر کی معاشی قدر پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔تعلیم کا شعبہ ۴۱۰؍ ارب ڈالر کے ممکنہ فائدے کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور مواصلات کے شعبوں کا نمبر آتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے سالانہ ۳۶۰؍ ارب ڈالر کی معاشی قدر پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح صحت کی خدمات کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کے استعمال سے سالانہ تقریباً  ۳۱۰؍ ارب ڈالر کی معاشی قدر پیدا ہوسکتی ہے۔
 رپورٹ میں اس عام خیال کو بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا بنیادی مقصد کم اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی جگہ لینا ہے۔ اس کے برعکس، رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ ہنرمند اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں زیادہ بڑے معاشی مواقع موجود ہیں۔ قانون، صحت کی خدمات، انتظامی امور اور کمپیوٹر سے متعلق شعبوں میں مصنوعی ذہانت پیشہ ور افراد کو کام تیزی سے مکمل کرنے، معلومات کا بہتر تجزیہ کرنے اور زیادہ درست فیصلے لینے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس طرح مصنوعی ذہانت کا سب سے زیادہ فائدہ صرف ملازمین کی جگہ مشینوں کو استعمال کرنے سے نہیں، بلکہ انسانی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK