Updated: October 29, 2026, 9:58 PM IST
| New Delhi
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اس ٹیکنالوجی پر آنے والے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے کاروبار اور سافٹ ویئر تیار کرنے والے افراد، جو پیچیدہ کاموں کے لیے اے آئی ایجنٹس استعمال کرتے ہیں، انہیں کمپیوٹنگ وسائل اور ڈجیٹل خدمات کے بڑھتے بلوں کا سامنا ہے۔
جے پاریک۔ تصویر: آئی این این
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اس ٹیکنالوجی پر آنے والے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے کاروبار اور سافٹ ویئر تیار کرنے والے افراد، جو پیچیدہ کاموں کے لیے اے آئی ایجنٹس استعمال کرتے ہیں، انہیں کمپیوٹنگ وسائل اور ڈجیٹل خدمات کے بڑھتے بلوں کا سامنا ہے۔ مائیکروسافٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر اور کور اے آئی کے سربراہ جے پاریکھ نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے واضح کیا ہے کہ اداروں کو اے آئی کے استعمال کی نگرانی، مختلف ماڈلز کا مناسب انتخاب، اخراجات کی حد مقرر کرنے اور تفصیلی رپورٹس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات سان فرانسسکو میں منعقدہ GitHub Universe کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہی۔
ابتدائی دور میں اے آئی چیٹ بوٹس کی مفت سہولت نے اس ٹیکنالوجی کو عام صارفین اور کاروباری اداروں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، جیسے جیسے اے آئی ماڈلز زیادہ جدید ہوئے اور انہیں پیچیدہ کاموں کے لیے استعمال کیا جانے لگا، ان کی تیاری، تربیت اور چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ وسائل کی لاگت بھی بڑھتی گئی۔اب مسئلہ صرف چیٹ بوٹ سے سوال پوچھنے تک محدود نہیں رہا۔ اے آئی ایجنٹس ایسے کام بھی انجام دے سکتے ہیں جن میں منصوبہ بندی، معلومات کا تجزیہ، کوڈ لکھنا، مختلف مراحل پر فیصلے کرنا اور نتائج کی جانچ شامل ہوتی ہے۔ ان کاموں کے دوران ایک ایجنٹ کو کئی مرتبہ اے آئی ماڈل استعمال کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے مجموعی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
جے پاریکھ کے مطابق، اداروں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی ٹیمیں اے آئی کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں، کون سے ماڈلز زیادہ استعمال ہو رہے ہیں اور اخراجات کہاں بڑھ رہے ہیں۔ ان معلومات کی مدد سے کمپنیاں غیر ضروری استعمال کی نشاندہی کرکے اپنے بجٹ کو بہتر انداز میں منظم کر سکتی ہیں۔ جے پاریکھ نے بتایا کہ مائیکروسافٹ کاروباری اداروں اور انفرادی صارفین کو ایسے انتظامی ذرائع فراہم کرتا ہے جن سے وہ اے آئی کے استعمال اور اس پر ہونے والے اخراجات کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان سہولتوں کے ذریعے ادارے یہ طے کر سکتے ہیں کہ ملازمین کن اے آئی ماڈلز تک رسائی حاصل کریں، ان کے لیے کتنا بجٹ مختص ہو اور اخراجات کو کس طرح محدود رکھا جائے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے ہر سافٹ ویئر ڈیولپر کے لیے ہفتہ وار ۱۰۰؍ ڈالر کا بجٹ مقرر کرتی ہے تو وہ مخصوص ماڈلز تک رسائی کی اجازت دینے، اخراجات کی حد مقرر کرنے اور تفصیلی استعمال کی رپورٹس دیکھنے جیسے اقدامات کر سکتی ہے۔ اس سے اداروں کو معلوم ہوگا کہ ان کے ملازمین اے آئی پر کتنا خرچ کر رہے ہیں اور کہاں بچت کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق، صرف بجٹ مختص کرنا کافی نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ استعمال مقررہ حد کے اندر رہے۔ سخت اخراجاتی حدود اور نگرانی کے نظام اداروں کو غیر متوقع بلوں سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اے آئی خدمات کی لاگت سمجھنے کے لیے ٹوکن کے تصور کو جاننا ضروری ہے۔ ٹوکن وہ اکائیاں ہیں جنہیں اے آئی ماڈلز صارف کے سوالات اور فراہم کردہ معلومات کو سمجھنے اور جواب تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ٹوکن ایک مکمل لفظ ہو؛ بعض اوقات ایک لفظ کئی ٹوکنز میں تقسیم ہو سکتا ہے۔
جب صارف اے آئی کو کوئی ہدایت دیتا ہے تو ماڈل پہلے اس معلومات کو پراسیس کرتا ہے اور پھر جواب تیار کرتا ہے۔ اس عمل میں استعمال ہونے والے ٹوکنز کی تعداد، منتخب کردہ ماڈل اور متعلقہ کمپنی کی قیمتوں کے نظام کے مطابق اخراجات مختلف ہو سکتے ہیں۔عام طور پر جواب تیار کرنے والے ٹوکنز کی لاگت بھی اہم ہوتی ہے، کیونکہ طویل جوابات اور پیچیدہ کام زیادہ کمپیوٹنگ وسائل استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر اے آئی ایجنٹ کسی کام کو مکمل کرنے کے لیے بار بار معلومات کا تجزیہ کرے، کوڈ لکھے، نتائج جانچے اور دوبارہ کوشش کرے تو مجموعی ٹوکن استعمال تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔اسی وجہ سے سافٹ ویئر ڈیولپرز اور اے آئی کے زیادہ استعمال کرنے والے اداروں کے اخراجات عام صارفین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ کمپنیاں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ہر کام کے لیے کتنا خرچ ضروری ہے اور کیا وہی کام کسی کم لاگت والے ماڈل کے ذریعے بھی مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ جے پاریکھ نے اے آئی کے اخراجات کم رکھنے کے لیے مختلف ماڈلز کے انتخاب کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق، تمام کاموں کے لیے ایک ہی ماڈل استعمال کرنے کے بجائے کام کی نوعیت، مطلوبہ معیار اور بجٹ کے مطابق ماڈل منتخب کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کترینہ کیف نے زچگی کے بعد جسمانی ساخت پر تنقید کرنے والوں کو دوٹوک جواب دیا
مثال کے طور پر سادہ تحریری کاموں یا معمول کی معلومات کی درجہ بندی کے لیے نسبتاً کم لاگت والا ماڈل کافی ہو سکتا ہے، جبکہ پیچیدہ پروگرامنگ، مشکل مسائل کے حل یا گہری منطق پر مبنی کاموں کے لیے زیادہ صلاحیت رکھنے والے ماڈل کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔پاریکھ کا کہنا ہے کہ مختلف ماڈلز کی دستیابی معیار، کاروباری تسلسل اور اخراجات کے لحاظ سے اہم ہے۔ اداروں کو کسی ایک کمپنی یا ایک ہی ماڈل پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے متبادل ماڈلز استعمال کرنے کی سہولت ملنی چاہیے۔ انہوں نے بند اور کھلے وزن والے ماڈلز کے انتخاب کے ساتھ یہ امکان بھی اہم قرار دیا کہ ادارے اپنی ضرورت کے مطابق اپنے پسندیدہ ماڈلز استعمال کر سکیں۔ اس طرح کمپنیاں اپنے کام کی نوعیت کے مطابق بہتر انتخاب کر سکتی ہیں اور غیر ضروری اخراجات سے بچنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
جے پاریکھ نے GitHub Copilot Fusion کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد پروگرامنگ کے کاموں کے لیے مختلف اے آئی ماڈلز کے انتخاب اور ان کے درمیان کام کی تقسیم کو آسان بنانا ہے۔ اس طریقے میں ڈیولپرز کو ہر کام کے لیے خود ماڈل منتخب کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، صارف اپنی ترجیحات طے کر سکتے ہیں کہ انہیں سب سے اعلیٰ معیار کا نتیجہ چاہیے، معیار اور لاگت کے درمیان متوازن انتخاب کرنا ہے یا کم خرچ حل کو ترجیح دینی ہے۔ اس کے بعد نظام مختلف ماڈلز کے امتزاج سے مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر کوئی صارف بہترین ممکنہ نتیجے کو ترجیح دیتا ہے تو اس کے لیے نسبتاً زیادہ خرچ ہو سکتا ہے، جبکہ کم بجٹ رکھنے والے صارفین کے لیے چھوٹے یا کم لاگت والے ماڈلز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بعض کاموں میں ایک سے زیادہ ماڈلز کو ملا کر بھی مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام کا مقصد ماڈل کے انتخاب کی پیچیدگی کم کرنا اور ڈیولپرز کو اپنے اصل کام پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ تاہم، اخراجات میں حقیقی بچت کا انحصار کام کی نوعیت، ماڈلز کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:کیرالا کی۱۸؍ سالہ فٹبالر رِنشا مریم کا پرتگال میں جلوہ، کرسٹیانو رونالڈو کی مداح ہیں
اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ ان ایجنٹس کی نگرانی ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر کئی مراحل پر مشتمل کام انجام دے سکتے ہیں۔ روایتی چیٹ بوٹ عموماً سوال کا جواب دیتا ہے، لیکن اے آئی ایجنٹ معلومات جمع کرنے، منصوبہ بنانے، مختلف ذرائع استعمال کرنے اور عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت بھی رکھ سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے اداروں کے سامنے نئے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی ایجنٹ کو کن معلومات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے؟ اس کے اقدامات کی نگرانی کیسے کی جائے؟ اگر وہ کوئی غیر متوقع کارروائی کرے تو اسے کیسے روکا جائے؟
جے پاریکھ نے کہا کہ اے آئی ایجنٹس کے لیے مناسب ضابطوں اور حفاظتی نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، کچھ صارفین چاہتے ہیں کہ ایجنٹ انسانوں کی طرح ان کے ساتھ کام کرے، جبکہ دوسرے چاہتے ہیں کہ اسے واضح طور پر ایک مشینی نظام کے طور پر دیکھا اور سمجھا جائے۔ دونوں صورتوں میں اس کی سرگرمیوں کی نگرانی اور اس کے اختیارات کی حد مقرر کرنا ضروری ہے۔ پاریکھ کے مطابق، مائیکروسافٹ کا کور اے آئی شعبہ ایسے معیارات پر کام کر رہا ہے جن میں ’’ایجنٹ ہُکس‘‘ (Agent Hooks) جیسے طریقے شامل ہیں۔ ان کا مقصد ایجنٹس کے اندر آنے والی معلومات، ان کے تیار کردہ نتائج اور کام کے دوران ان کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں مدد دینا ہے۔