• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ پر جیوری ممبران کے ”حیران کن“ تبصرے: اروندھتی رائے نے برلن فلم فیسٹیول کا بائیکاٹ کیا

Updated: February 14, 2026, 7:09 PM IST | New Delhi

۷۶ واں سالانہ برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ۱۲ فروری سے ۲۲ فروری تک برلن میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس فیسٹیول میں رائے کی ۱۹۸۹ء کی فلم ’In Which Annie Gives It Those Ones‘ کو کلاسیکی سیکشن کے تحت نمائش کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

Arundhati Roy. Photo: X
اروندھتی رائے۔ تصویر: ایکس

معروف مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے جمعہ کے دن اعلان کیا کہ وہ ’برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ۲۰۲۶ء‘ میں شرکت نہیں کریں گی۔ ۷۶ واں سالانہ برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، جسے `برلینالے` (Berlinale) بھی کہا جاتا ہے، ۱۲ فروری سے ۲۲ فروری تک برلن، جرمنی میں منعقد ہو رہا ہے۔ فیسٹیول میں رائے کی ۱۹۸۹ء کی فلم ’In Which Annie Gives It Those Ones‘ کو کلاسیکی سیکشن کے تحت نمائش کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ رائے کے ذریعے لکھی گئی اس فلم کی ہدایت کاری پردیپ کرشن نے کی تھی۔

رائے نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب برلن فلم فیسٹیول کی جیوری کے ممبران نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی جارحیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہیے۔“ برطانوی روزنامہ ’دی گارجین‘ نے جیوری ممبر اور ڈائریکٹر وم وینڈرز کے حوالے سے نقل کیا: ”ہمیں سیاست سے دور رہنا ہوگا کیونکہ اگر ہم ایسی فلمیں بناتے ہیں جو مکمل طور پر سیاسی ہوں، تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم سیاست کا توازن برقرار رکھنے والی قوت ہیں، ہم سیاست کے برعکس ہیں۔ ہمیں لوگوں کا کام کرنا ہے، سیاستدانوں کا نہیں۔“ واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ۷۱ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بیشتر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

انقلاب کے قارئین کے لئے اروندھتی رائے کے بیان کا مکمل متن پیش کیا جارہا ہے:

”میری لکھی ہوئی ایک دلچسب اور عجیب فلم ’In Which Annie Gives It Those Ones‘ جسے میں نے ۳۸ سال قبل لکھا تھا، برلینالے ۲۰۲۶ء کے کلاسیکی سیکشن میں نمائش کے لئے منتخب کی گئی ہے۔ میرے لئے اس میں کچھ بہت ہی خوشگوار اور حیرت انگیز احساس تھا۔

اگرچہ فلسطین کے حوالے سے جرمن حکومت اور مختلف جرمن ثقافتی اداروں کے موقف نے مجھے شدید پریشان کیا ہے، لیکن جب بھی میں نے جرمن سامعین کے سامنے غزہ میں نسل کشی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، مجھے ہمیشہ سیاسی یکجہتی حاصل ہوئی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میرے لئے برلینالے میں ’اینّی‘ (Annie) کی اسکریننگ میں شرکت کے بارے میں سوچنا ممکن ہوا۔

آج صبح، دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی طرح، میں نے برلن فلم فیسٹیول کی جیوری کے ممبران کے وہ غیر اخلاقی بیانات سنے جو انہوں نے غزہ میں نسل کشی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں دیے۔ انہیں یہ کہتے ہوئے سننا کہ ’فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہیے،‘ حیرت انگیز ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف ایسے جرم کے بارے میں گفتگو کو روکنے کا طریقہ ہے جو ہمارے سامنے حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے، جبکہ فن کاروں، ادیبوں اور فلم سازوں کو اسے روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کرنی چاہیے۔

میں واضح طور پر کہنا چاہتی ہوں: غزہ میں جو کچھ ہوا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ریاستِ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے۔ اسے امریکہ اور جرمنی کے ساتھ یورپ کے کئی دیگر ممالک کی حکومتوں کی حمایت اور مالی امداد حاصل ہے، جو انہیں اس جرم میں برابر کا شریک بناتی ہے۔

اگر ہمارے عہد کے عظیم ترین فلم ساز اور فن کار کھڑے ہو کر یہ سچ نہیں کہہ سکتے، تو انہیں جان لینا چاہیے کہ تاریخ ان کا فیصلہ کرے گی۔ میں صدمے میں ہوں اور مجھے سخت گھن آ رہی ہے۔

شدید افسوس کے ساتھ، مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں برلینالے میں شرکت نہیں کروں گی۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK